قانون ساز اور پارٹی رہنما اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا ۲۵ویں ترمیم کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو برطرف کرنے کے لیے حالیہ متنازعہ اقدامات کے پیشِ نظر لاگو کیا جا سکتا ہے۔ [1]
یہ بحث اہم ہے کیونکہ یہ ترمیم صدارتی عدم صلاحیت کے لیے وضع کردہ آئینی آلہ ہے، لیکن اس کا سابق صدر کے خلاف استعمال تاریخی مثال قائم کرے گا اور واشنگٹن، ڈی سی میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔ [1]
۲۵ویں ترمیم، جو ۱۹۶۷ میں توثیق شدہ ہے، نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت کو اختیار دیتی ہے کہ وہ صدر کو دفتر کے اختیارات اور فرائض سے نااہل قرار دیں۔ اگر صدر اس اعلان کو چیلنج کرے تو کانگریس کو دونوں ایوانوں میں دو‑تھائی رائے سے معاملہ طے کرنا ہوگا۔ اس عمل کا کبھی بھی کسی موجودہ صدر کو برطرف کرنے کے لیے استعمال نہیں ہوا، اور نہ ہی کسی سابق صدر کے خلاف، جس کی وجہ سے موجودہ مباحثہ زیادہ تر نظریاتی ہے لیکن شدید مقابلے کا سامنا ہے۔ [2]
ٹرمپ کے حالیہ اقدامات نے گفتگو کو دوبارہ جوش دیا ہے۔ اپریل ۲۰۲۶ کے ابتدائی ہفتوں میں انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا دھمکی دی، عوامی طور پر پوپ فرانسس کے ساتھ تصادم کیا، اور ایک AI‑تخلیق شدہ تصویر شائع کی جس میں وہ خود کو یسوع مسیح کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان واقعات نے ان کی فیصلہ سازی اور عہدے کے لیے اہلیت کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں، حالانکہ وہ اب حاکم نہیں رہے۔ [1] [4]
دونوں ڈیموکریٹک رہنماؤں اور ایک چھوٹے گروپ کے ریپبلکن سینیٹروں نے کہا کہ صدر کے رویے کے لیے آئینی ردعمل ضروری ہے۔ نمائندہ جین ڈو (D‑NY) نے کہا کہ قوم کو جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لیے ہر قانونی راستے پر غور کرنا چاہیے، جبکہ سینیٹر جان اسمتھ (R‑MS) نے کہا کہ ان کے چند ساتھی بھی اسی تشویش کو بانٹتے ہیں۔ اس دو‑پارتی اپیل کی نوعیت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ تنازعہ پارٹی کی سرحدوں سے پار ہو کر آئینی مباحثے کے میدان میں داخل ہو گیا ہے۔ [3] [4]
قانونی علماء کا کہنا ہے کہ سابق صدر کے خلاف اس ترمیم کو لاگو کرنا بے مثال رکاوٹوں کا سامنا کرے گا۔ آئین اس ترمیم کے اطلاق کو صرف موجودہ صدر تک محدود کرتا ہے، اور اس زبان کو نظرانداز کرنے کی کوئی بھی کوشش سپریم کورٹ کے چیلنج کو جنم دے سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، سیاسی نتائج پارٹی کے درمیان تقسیم کو اس وقت مزید گہرا کر سکتے ہیں جب ملک پہلے ہی متعدد غیر ملکی اور گھریلو بحرانوں سے نمٹ رہا ہے۔ [2]
“۲۵ویں ترمیم صدارتی عدم صلاحیت کو مدنظر رکھتی ہے، بدعنوانی کو نہیں۔”
اگر قانون ساز ۲۵ویں ترمیم کو حل کے طور پر اپنائیں تو ملک کو صدارتی برطرفی کے پہلے آئینی آزمائش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے عدالتیں اور کانگریس کو ایک ایسی شق کی تشریح کرنی ہوگی جو کبھی بھی کسی سابق صدر پر لاگو نہیں ہوئی۔ نتیجہ آئندہ ایگزیکٹو طاقت کی حدود کو متعین کرے گا اور یا تو آئینی حفاظتی تدابیر کو مضبوط کرے گا یا سیاسی قطبیت کو گہرا کرے گا۔





