Anthropic کے CEO Dario Amodei نے White House کے حکام، جن میں چیف آف اسٹاف Susie Wiles شامل ہیں، سے White House میں جمعہ کے روز Mythos AI ماڈل پر گفتگو کے لیے ملاقات کی۔ یہ ملاقات 17 اپریل 2026 کو ہوئی[1]۔

یہ گفتگو اہم ہے کیونکہ حکام کو خدشہ ہے کہ Mythos ماڈل کو خودکار سائبر‑حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے قومی سلامتی کے خطرات بڑھ جائیں گے اور Anthropic اور امریکی حکومت کے درمیان پہلے سے کشیدہ تنازعہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے[5]۔ ایک حل اس بات کا تعین کر سکتا ہے کہ ابھرتے ہوئے AI نظاموں کو کس طرح ضابطہ بندی اور نفاذ کیا جائے۔

White House کے حکام نے کہا کہ ملاقات مؤثر رہی اور یہ جدت اور سیکیورٹی کے درمیان توازن پیدا کرنے والے مصالحت پر مرکوز تھی[3]۔ دونوں فریقوں نے کہا کہ انہیں حفاظتی تدابیر کی ضرورت ہے جبکہ Anthropic نے اشارہ کیا کہ وہ ذمہ دار AI ترقی کے عزم پر قائم ہے۔ شرکاء نے ممکنہ پالیسی فریم ورک اور تکنیکی کنٹرولز پر اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔

Anthropic کی جانب سے جنریٹو AI میں ایک سنگِ میل کے طور پر پیش کردہ Mythos ماڈل کے بارے میں یہ تشویش ہے کہ اس کی اعلیٰ صلاحیتیں بددیہی کوڈ کی تخلیق یا خودکار فشنگ کے لیے دوبارہ استعمال کی جا سکتی ہیں[5]۔ سرکاری تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ایسے آلات پیچیدہ سائبر‑جرائم کے لیے رکاوٹ کو کم کر سکتے ہیں، جس سے مزید سخت نگرانی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ یہ ملاقات کمپنی اور وفاقی ایجنسیوں کے درمیان متعدد قانونی اور ضابطہ جاتی تصادم کے بعد ہوئی ہے۔

سیکیورٹی مذاکرات کے ساتھ ساتھ فریقین نے مزید عدالتی جھگڑوں سے بچنے کے اقدامات پر بھی گفتگو کی۔ حکام نے کہا کہ وہ ایک مشترکہ بیان تیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں متفقہ حفاظتی تدابیر اور رپورٹنگ کے پروٹوکول کی وضاحت ہو۔ Anthropic نے کہا کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ مل کر ان حفاظتی اقدامات کو مستقبل کے اجراء میں شامل کرے گا۔

اس مکالمے کا نتیجہ اس بات کا پیش خیمہ بن سکتا ہے کہ امریکہ کس طرح AI کمپنیوں کے ساتھ اعلیٰ‑خطرے والی ٹیکنالوجیز پر تعامل کرتا ہے۔ خطرات کو ابتدائی مرحلے پر حل کر کے پالیسی ساز امید رکھتے ہیں کہ غلط استعمال کو روکا جائے جبکہ فائدہ مند جدت کو فروغ ملے۔

White House کے حکام نے کہا کہ ملاقات مؤثر رہی۔

یہ گفتگو طاقتور AI آلات کی باہمی ضابطہ بندی کی طرف ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل کے تنازعات کو عدالتی چارہ جوئی کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، جو صنعت‑پراپت حفاظتی معیارات کی ترقی کو تیز کر سکتا ہے۔