اینٹی‑ڈرون ٹیکنالوجی کا بازار $20 بلین کی تجارت [1] میں تبدیل ہو چکا ہے جو اب تک زیادہ تر سرمایہ کاروں کی جانب سے نظرانداز رہتا ہے۔

یہ اضافہ عالمی سکیورٹی کی ترجیحات میں بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ جیسے جیسے بغیر پائلٹ کے فضائی وسائل تنازع اور نگرانی میں زیادہ عام ہو رہے ہیں، انہیں غیر فعال کرنے کی صلاحیت ایک مخصوص ضرورت سے بنیادی دفاعی ضرورت میں تبدیل ہو گئی ہے۔

دفاعی شعبے کی کمپنیاں اب اس طلب کو پورا کرنے کے لیے متعدد ڈرون‑نقابہ ٹیکنالوجیاں تیار کر رہی ہیں۔ یہ نظام حکومتی ایجنسیوں کے ذریعے اسٹریٹیجک مراکز، بشمول امریکہ کے واشنگٹن اور سعودی عرب کے ریاض میں خریدے جا رہے ہیں [2]۔ اس اضطراری صورتحال کی وجہ یہ ہے کہ اینٹی‑ڈرون صلاحیتیں اب جدید دفاع اور سکیورٹی آپریشنز کے لیے لازمی سمجھی جاتی ہیں [2]۔

اگرچہ وسیع دفاعی صنعت وال اسٹریٹ پر معروف ہے، اس مخصوص حصے کو شعبے کے اندر سب سے تیزی سے بڑھنے والا حصہ تسلیم کیا گیا ہے [2]۔ اس عروج کی وجہ ڈرون ٹیکنالوجی کی غیر ریاستی عناصر اور غیر ملکی مخالفین کے لیے بڑھتی رسائی ہے، جس سے حکومتیں اہم بنیادی ڈھانچے اور فوجی وسائل کی حفاظت کے لیے ردعمل کے اقدامات میں سرمایہ کاری پر مجبور ہیں۔

ان ٹیکنالوجیوں میں سرمایہ کاری عموماً الیکٹرانک جیممنگ، حرکیاتی روک تھام اور لیزر نظاموں کے امتزاج پر مشتمل ہوتی ہے۔ چونکہ یہ آلات فضائی حدود کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں، اس لیے خریداری کا عمل متعدد براعظموں میں تیز رفتار ہو گیا ہے [2]۔

اگرچہ $20 بلین کی قیمت [1] ہے، اس تجارت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ زیادہ تر سرمایہ کار اس سے بے خبر ہیں۔ مارکیٹ کی افادیت اور سرمایہ کاروں کی آگاہی کے درمیان یہ خلا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ شعبہ اپنی اسٹریٹجک اہمیت کے مقابلے میں کم قیمت کا شکار ہو سکتا ہے۔

اینٹی‑ڈرون ٹیکنالوجی کا بازار $20 بلین کی تجارت میں تبدیل ہو چکا ہے۔

اینٹی‑ڈرون مارکیٹ کی توسیع الیکٹرانک جنگ میں وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ جیسے جیسے ڈرون فضائی حملوں کے لیے داخلے کی لاگت کو کم کرتے ہیں، اقتصادی اور اسٹریٹجک قدر 'تلوار' کے بجائے 'ڈھال' کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت کی خریداری ممکنہ طور پر اسیمٹرک خطرات کے مقابلے میں روایتی مسلح پلیٹ فارمز کے مقابلے میں خودکار دفاعی نظاموں کو ترجیح دے گی۔