بیجنگ کی میونسپل حکام حیدان ضلع میں ایک مخصوص سیٹلائٹ ٹاؤن کی تعمیر کر رہی ہیں تاکہ سیٹلائٹ سازوں اور آپریٹرز کو مقام فراہم کیا جا سکے [1, 2]۔

یہ منصوبہ چینی حکومت کی اس حکمت عملی کی نمائندگی کرتا ہے کہ وہ ایک صنعتی ماحولی نظام قائم کرے جو امریکی فضائی برتری کو چیلنج کر سکے۔ مہارت اور پیداوار کو ایک ہی مرکز میں مرکوز کر کے، بیجنگ چین کو جاری خلائی دوڑ میں ریاستہائے متحدہ پر سبقت حاصل کرنے میں مدد دینے کا مقصد رکھتا ہے [1, 2]۔

ٹاؤن کے مرکزی علاقے کی تعمیر 2026 کے آخر تک مکمل ہونے کا منصوبہ ہے [1]، جبکہ دیگر رپورٹس اس ٹائم لائن کو 2026 کے دوسرے نصف کے طور پر بیان کرتی ہیں [2]۔ یہ سہولت ملک کی بڑھتی ہوئی فضائی‑فضائی صنعت کے لیے ایک مرکزی مرکز کے طور پر کام کرے گی، جس میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ڈیزائن، پیداواری اور آپریشن کو یکجا کیا جائے گا [2]۔

ان وسیع پیمانے کے بنیادی ڈھانچے اور صنعتی اہداف کی تکمیل کے لیے، چین خصوصی خزانہ بانڈز کے ذریعے 1 ٹریلین یوان جمع کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے [3]۔ یہ مالیاتی کوشش تقریباً $138 بلین کے برابر ہے [3]۔

حیدان ضلع میں یہ ترقی تحقیق سے لے کر نفاذ تک کے عمل کو ہموار کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ سیٹلائٹ آپریٹرز کے لیے ایک مخصوص زون تخلیق کر کے، حکومت تکنیکی ترقی اور مدار میں عملدرآمد کے درمیان رکاوٹ کو کم کرنا چاہتی ہے [2]۔ یہ اقدام وسیع قومی مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہے تاکہ تکنیکی خودمختاری کو مستحکم کیا جا سکے اور چینی مدار کی صلاحیتوں کے دائرے کو وسیع کیا جا سکے [1]۔

بیجنگ کا مقصد چین کو جاری خلائی دوڑ میں ریاستہائے متحدہ پر سبقت حاصل کرنے میں مدد دینا ہے۔

ایک مخصوص فضائی‑فضائی مرکز کا قیام خلائی تحقیق کے لیے ایک زیادہ مربوط، ریاستی قیادت والی صنعتی حکمت عملی کی طرف تبدیلی کی علامت ہے۔ $138 بلین کی بانڈ جاریگی جیسے وسیع مالی آلات کو براہِ راست سیٹلائٹ ٹاؤن جیسے بنیادی ڈھانچے سے جوڑ کر، چین اپنی ترقیاتی رفتار کو تیز کرنے اور امریکی فضائی صلاحیتوں کے ساتھ فرق کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔