برطانوی کاؤنٹر‑ٹیرر پولیس شمال‑مغربی لندن کے گنبد پر 15 اپریل 2026 کو ہونے والے آگ لگانے کے حملے کی تحقیقات کر رہی ہے[1]۔
پولیس کے مطابق یہ معاملہ اہم ہے کیونکہ یہ نفرت پر مبنی حملوں کی ایک لہر کے بعد سامنے آیا ہے اور برطانیہ میں یہودی مخالف دشمنی کے وسیع اضافہ کی عکاسی کرتا ہے[1]۔
پولیس نے کہا کہ واقعے کی درست نوعیت مختلف ذرائع سے بیان کی گئی ہے۔ Deutsche Welle نے اسے آگ لگانے کا حملہ قرار دیا، جبکہ CNN نے اسے آگ لگانے کی کوشش کے طور پر بیان کیا[1][2]۔
پولیس کے بیانات کے مطابق اس واقعے سے منسلک دو مشتبہ افراد گرفتار کر لیے گئے[2]۔
مقام کی تفصیلات کے مطابق آگ شمال‑مغربی لندن کے Kilburn علاقے میں واقع گنبد میں لگائی گئی، جو تاریخی یہودی برادری کا مسکن ہے[4]۔
حکام کے مطابق تحقیق برطانوی کاؤنٹر‑ٹیرر پولیس یونٹ کی قیادت میں کی جا رہی ہے، جو انتہا پسندانہ محرکات والے مقدمات کی جانچ کرتی ہے[1]۔
پولیس کے مطابق کچھ رپورٹس بتاتی ہیں کہ آگ لگانے کا ہدف ممکنہ طور پر فارسی زبان کے میڈیا ادارے پر بھی تھا، جبکہ دیگر ذرائع کے مطابق ہدف صرف گنبد تک محدود تھا[4][5]۔
پولیس نے کہا کہ وہ سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کا جائزہ لے رہی ہے اور عوام سے کسی بھی معلومات کی درخواست کی ہے جو تفتیش میں معاون ہو—کسی بھی سراغ سے مزید معاونین کی شناخت میں کلیدی مدد مل سکتی ہے[1]۔
یہ گرفتاری اس وقت سامنے آئی جب برطانیہ کی حکومت نے نفرت انگیز جرائم کے قوانین کو مضبوط بنانے اور برادری کے تحفظ کے لیے وسائل بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے، جو حالیہ یہودی مخالف واقعات کے بڑھتے رجحان کے پیشِ نظر ایک پالیسی ردعمل ہے[1]۔
برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ یہ حملہ احتیاط اور یکجہتی کی ضرورت کو واضح کرتا ہے، اور رہائشیوں سے مشکوک رویے کی اطلاع دینے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کرنے کا مطالبہ کیا[1]۔
“اس واقعے سے منسلک دو مشتبہ افراد گرفتار کر لیے گئے۔”
یہ تفتیش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے ادارے یہودی اداروں پر ہونے والے حملوں کو سنگین انتہا پسندانہ جرائم کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو یہودی مخالف نفرت آمیز واقعات کے بڑھتے خدشے کی عکاسی کرتا ہے اور خطرے کے شکار برادریوں کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کا سبب بن رہا ہے۔





