چین کی دوسری روبوٹ ہاف‑مارٹھن میں بیجنگ میں 19 اپریل 2025 کو 300 سے زائد ہومنوئڈ روبوٹ حصہ لے گئے [1, 4]۔

یہ تقریب روبوٹکس صنعت کے لیے ایک اہم معیار کے طور پر کام کرتی ہے، جس میں جسمانی AI اور طویل فاصلے پر بیٹری کی برداشت کی حقیقی دنیا میں قابلیت کی جانچ کی جاتی ہے۔ 21 کلومیٹر کے کورس پر مشینوں کو چلانے سے ڈویلپرز خودمختار نیویگیشن اور جسمانی استحکام میں وہ نقصانات شناخت کر سکتے ہیں جو لیبارٹری کے ماحول میں ممکن نہیں۔

تقریب میں تقریباً 70 ٹیموں نے حصہ لیا [2]، جن میں ایلبابا، ہانور اور یونٹری جیسے بڑے ٹیکنالوجی ادارے شامل تھے [1]۔ مقابلے نے تین بنیادی تکنیکی ستونوں پر توجہ مرکوز کی: خودمختار نیویگیشن، بیٹری کی زندگی، اور جسمانی AI کا انضمام [1, 2]۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 40٪ حصہ لینے والے روبوٹ خودمختار نیویگیشن نظام استعمال کرتے ہیں [2]۔ یہ انسانی ریموٹ‑کنٹرول آپریٹرز سے آزادی کی جانب ایک نمایاں تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے، جو شہری ماحول میں روبوٹ کے نفاذ کے لیے ضروری قدم ہے۔

یہ دوڑ بیجنگ کے ای‑ٹاؤن مقام پر منعقد ہوئی [1, 3]۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ تقریب میدان میں تازہ ترین تکنیکی پیش رفتوں کو پیش کرنے اور یہ دکھانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے کہ ہومنوئڈ شکلیں مسلسل حرکت کے دباؤ کو کیسے برداشت کر سکتی ہیں [1, 2]۔

اگرچہ ابتدائی رپورٹس میں 100 سے زائد روبوٹوں کے چھوٹے میدان کا ذکر تھا، لیکن حتمی تعداد 300 سے زیادہ مشینوں تک پہنچی [1]۔ یہ تقریب چین کی عالمی ہومنوئڈ روبوٹکس مارکیٹ میں پیش قدمی کے لیے بڑے پیمانے پر عوامی مظاہروں کے ذریعے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کی ہم آہنگی کو نمایاں کرتی ہے [1, 2]۔

چین کی دوسری روبوٹ ہاف‑مارٹھن میں 300 سے زائد ہومنوئڈ روبوٹ حصہ لے گئے۔

قابلِ کنٹرول لیبارٹری ماحول سے 21 کلومیٹر کے عوامی کورس کی طرف منتقلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہومنوئڈ روبوٹکس تصور کی تصدیق کے مرحلے سے نکل کر برداشت کی جانچ کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ایلبابا اور یونٹری جیسے کارپوریٹ دیووں کی بڑی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ یہ کمپنیاں 'جسمانی AI' کی طرف رخ کر رہی ہیں، جہاں ذہانت کو ایسے جسمانی اشکال میں ضم کیا جاتا ہے جو پیچیدہ اور حقیقی دنیا کے زمینوں پر نیویگیٹ کر سکیں۔