سرکل انٹرنیٹ گروپ کے خلاف ایک اجتماعی دعویٰ دائر کیا گیا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ڈریفت پروٹوکول کے ہیک کے بعد اس نے چوری شدہ USDC کی $280‑$295 ملین کی رقم کو منجمد نہیں کیا۔ [1][2]
یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ جانچتا ہے کہ مستحکم‑کوائن جاری کرنے والے بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں پر کس طرح ردعمل دیتے ہیں اور یہ حقیقی‑وقت کے اثاثہ کنٹرول کے لیے ریگولیٹری توقعات کو تشکیل دے سکتا ہے۔ [6]
۱ اپریل ۲۰۲۴ کو، حملہ آوروں نے ڈریفت پروٹوکول میں ایک کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تقریباً $280 ملین سے $295 ملین کی مالیت کے USDC کو پلیٹ فارم سے منتقل کیا۔ [1][2] یہ نقصان، جسے سال کے سب سے بڑے کرپٹو چوریوں میں سے ایک بیان کیا گیا ہے، سرکل کے مستحکم کوائن پر مائعیت کے لیے انحصار کرنے والے سرمایہ کاروں میں فوری تشویش پیدا کر گیا۔
ڈریفت کے سرمایہ کاروں کے ایک گروپ نے، جس کی قیادت جوشوا میک کولم نے کی، اپریل ۲۰۲۴ کے ایک بدھ کے روز میساچوسٹس کے ضلعی امریکی عدالت میں شکایت درج کرائی۔ [5] اس دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرکل کے پاس چوری شدہ ٹوکنز کو منجمد کرنے کے لیے آٹھ گھنٹے کا وقت تھا لیکن اس نے کوئی کارروائی نہیں کی، جس سے فنڈز مزید منتقل ہو گئے۔ [6]
مدعیین کی فہرست میں ۱۰۰ سے زائد اراکین شامل ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں مالی نقصان ہوا کیونکہ USDC متحرک ہی رہا۔ [3] وہ استدلال کرتے ہیں کہ مداخلت میں سرکل کی ناکامی نے ٹوکن ہولڈرز کے تحفظ کی ذمہ داری کی خلاف ورزی کی اور وہ ہیک کی پوری رقم کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
سرکل نے اس مقدمے پر عوامی تبصرہ جاری نہیں کیا، اور اس کی قانونی ٹیم نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ [5] کمپنی کی معمول کی پالیسی یہ ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحقیقات کے ساتھ تعاون کرے جبکہ عدالت میں اپنے اقدامات کا دفاع کرے۔
اگر مدعیین کامیاب ہو جائیں تو فیصلہ مستحکم‑کوائن جاری کرنے والوں کو تیز منجمدی کے طریقہ کار نافذ کرنے اور حفاظتی عمل کی نگرانی بڑھانے پر مجبور کر سکتا ہے۔ [6] وسیع تر کرپٹو مارکیٹ اس پر گہری نظر رکھتی ہے، کیونکہ کوئی بھی مثال USDC اور عالمی اداروں کے استعمال کردہ مشابہ اثاثوں کے اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔
**یہ کیا معنی رکھتا ہے**
ایک کامیاب دعویٰ مستحکم‑کوائن جاری کرنے والوں جیسے سرکل کی ذمہ داریوں کے لیے قانونی معیار قائم کرے گا، جس سے ڈیجیٹل‑اثاثہ کے حفاظتی اداروں پر فوری طور پر متأثر شدہ ٹوکنز کو غیر متحرک کرنے کا تقاضا عائد ہو سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر کرپٹو‑مستحکم کوائن کے نظام پر سخت ریگولیٹری نگرانی کا باعث بنے گا۔
“مدعیین کا کہنا ہے کہ سرکل کے پاس چوری شدہ USDC کو منجمد کرنے کے لیے آٹھ گھنٹے کا وقت تھا۔”
اگر عدالت مدعیین کے حق میں فیصلہ کرے تو یہ ثابت ہوگا کہ سرکل جیسے مستحکم‑کوائن جاری کرنے والوں پر قانونی طور پر مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ متاثرہ ٹوکنز کو فوری طور پر غیر متحرک کریں، جس سے ڈیجیٹل‑اثاثہ کے حفاظتی اداروں کے عملی معیار میں اضافہ ہوگا اور ممکنہ طور پر کرپٹو‑مستحکم کوائن کے نظام پر سخت ریگولیٹری نگرانی عائد ہو گی۔




