ٹائلر بوسٹی، 31 سالہ [5] سوشل میڈیا انفلوئنسر، کولمبس، اوہائیو سے، پونزی اسکیم چلانے کے سبب وفاقی جیل میں چھ سال [1] کی سزایٔی ہوئی۔
یہ سزایٔی اُن "فِنفلوانسرز" کے ساتھ منسلک خطرات کو واضح کرتی ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے سرمایہ کاروں کو غیر حقیقی منافع کے ساتھ راغب کرتے ہیں۔ یہ معاملہ خردہ سرمایہ کاروں کی اعلیٰ منافع کے وعدوں کے سامنے کمزوری کو اجاگر کرتا ہے، جن پر ریگولیٹری نگرانی کا فقدان ہے۔
بوسٹی نے اس اسکیم کو 30% [2] منافع کا وعدہ کر کے چلایا۔ انہوں نے ان فنڈز کو آپریشن کے جاری رکھنے اور اپنی ذاتی زندگی کے اخراجات کے لیے غلط استعمال کیا۔ کولمبس، اوہائیو کی عدالت نے جمعہ کے روز یہ سزایٔی سنائی۔
دھوکہ دہی کے مجموعی حجم کے بارے میں رپورٹس مختلف ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق اسکیم میں $20 ملین [4] شامل تھے، جبکہ دیگر کے مطابق یہ رقم $23 ملین [3] ہے۔ یہ فرق ملین ڈالر کی فراڈ کیسوں میں غلط استعمال شدہ فنڈز کے سراغ لگانے کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
وفاقی پراسیکیوٹرز کے مطابق بوسٹی نے اپنی آن لائن موجودگی سے اعتماد پیدا کیا اور متاثرین کو متوجہ کیا۔ یہ اسکیم ان افراد کو نشانہ بناتی تھی جو جائیداد اور مالی سرمایہ کاری کے ذریعے فوری دولت کی تلاش میں تھے، جو پونزی آپریشنز میں عام حکمت عملی ہے۔
بوسٹی کے فیصلے میں پونزی اسکیم کے ساتھ ساتھ ٹیکس فراڈ کے الزامات بھی شامل ہیں۔ چھ سال کی [1] سزایٔی کا مقصد امریکہ میں مالی فراڈ کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کرنے والوں کے لیے روک تھام کا پیغام دینا ہے۔
“ٹائلر بوسٹی کو پونزی اسکیم چلانے کے سبب وفاقی جیل میں چھ سال کی سزایٔی ہوئی۔”
یہ معاملہ سوشل میڈیا کے اثر و رسوخ اور مالی جرائم کے بڑھتے ہوئے تقاطع کو واضح کرتا ہے۔ 'فِنفلوانسرز' کی مانی جانے والی صداقت کو استعمال کرتے ہوئے بدعنوان افراد روایتی ادارہ جاتی اعتماد کے نشانات کو عبور کر کے سرمایہ کاروں کو دھوکہ دے سکتے ہیں۔ یہ سزایٔی امریکہ کی وفاقی عدالتوں کے لیے قانونی مثال پیش کرتی ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کو کس طرح بڑے پیمانے پر مالی فراڈ کے لیے روک سکتی ہیں۔





