ڈی سی سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے جمعہ کے روز پابندی ختم کی، جس سے ٹرمپ انتظامیہ کو وائٹ ہاؤس بال روم کی تعمیر جاری رکھنے کی اجازت ملی جبکہ مقدمہ جاری ہے۔

یہ فیصلہ اہم ہے کیونکہ یہ اس منصوبے کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے جسے انتظامیہ قومی سلامتی کے واقعات کے لیے ضروری قرار دیتی ہے، حالانکہ ناقدین اخراجات اور کانگریسی منظوری کی کمی کا انتباہ کرتے ہیں۔ عدالت میں جاری تنازعہ ایگزیکٹو اختیار اور عدالتی نگرانی کے درمیان کشیدگی کو بھی واضح کرتا ہے۔

عدالت نے اپنا حکم جمعہ کی رات، 17 اپریل 2026[4] کو جاری کیا۔ اس نے کہا کہ ضلعی عدالت کا موقت پابندی غیر مناسب تھی جبکہ مقدمے کے جوہر ابھی جائزے میں ہیں۔ عارضی طور پر موجودہ صورتحال بحال کر کے اپیل پینل نے وائٹ ہاؤس کو مزید تاخیر کے بغیر آگے بڑھنے کا وقت فراہم کیا۔

جج جیمز ہیرنگٹن، جو پینل کے لیے تحریر کر رہے تھے، نے کہا کہ نچلی عدالت کا حکم حکومت کو اپنے دلائل مکمل طور پر پیش کرنے کا موقع ملنے سے قبل کام کو روک دیتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ بال روم محفوظ سفارتی اجتماعات کے لیے لازمی ہے اور اس کی تعمیر کے لیے واضح کانگریسی اخراجات کی ضرورت نہیں۔

منصوبے کی لاگت کے تخمینے مختلف ہیں۔ ایک ماخذ کے مطابق قیمت $300 ملین[2] ہے، جبکہ دوسرا $400 ملین[1] کا حوالہ دیتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ اعداد و شمار نئی سہولت کے لیے $300‑$400 ملین کی حد کا اشارہ کرتے ہیں۔ لاگت پر مباحثہ منصوبے کے سیاسی تنازعے میں ایک اور پہلو شامل کرتا ہے۔

اپیل عدالت نے ایک عارضی آخری تاریخ بھی مقرر کی، جس سے تعمیرات کم از کم جون 2026[3] تک جاری رہ سکتی ہیں۔ یہ مدت ٹھیکیداروں کو ساختی کام مکمل کرنے کا وقت فراہم کرتی ہے اس سے پہلے کہ مزید قانونی مداخلتیں سامنے آئیں۔

دونوں جماعتوں کے قانون سازوں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کچھ کانگریس کے اراکین کا موقف ہے کہ وائٹ ہاؤس کو اس حجم کے منصوبے کے لیے قانون ساز منظوری حاصل کرنی چاہیے، جبکہ دیگر انتظامیہ کے فوری قومی سلامتی کی ضرورت کے دعوے کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ ان پالیسی مباحثوں کو حل نہیں کرتا، لیکن فی الحال تعمیراتی شیڈول کو برقرار رکھتا ہے۔

انتظامیہ فوری طور پر کام دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جہاں عملے پہلے ہی موقع پر کنکریٹ ڈھالنے اور اسٹیل فریمنگ نصب کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ منصوبے کی نمایاں موجودگی اسے آئندہ انتخابات میں ایک مرکز بن سکتی ہے، جہاں ووٹر ایگزیکٹو اخراجات کو محسوس شدہ سلامتی فوائد کے مقابلے میں پرکھتے ہیں۔

اپیل عدالت نے کہا کہ نچلی عدالت کی موقت پابندی قبل از وقت تھی۔

تعمیرات کو جاری رکھنے کی اجازت دے کر اپیل عدالت وائٹ ہاؤس بال روم کے منصوبے کو شیڈول پر برقرار رکھتی ہے، جس سے انتظامیہ کے لیے ایک ایسی جگہ کا وقت محفوظ رہتا ہے جسے وہ محفوظ سفارتی اجتماعات کے لیے اہم سمجھتی ہے، جبکہ ایگزیکٹو اخراجات کے اختیار کے بارے میں بنیادی قانونی تنازعہ عدالتوں اور کیپٹل ہل میں جاری ہے۔