مونٹریال کینیڈینز کے فارورڈ ایوان ڈیمیدوف نے کہا کہ وہ 2023‑24 اسٹینلے کپ پلے‑آف کے تجربے کے بعد آئندہ سیزن کے لیے خود کو بخوبی تیار محسوس کرتے ہیں [1]۔
یہ ترقی کینیڈینز کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ وہ نوجوان صلاحیتوں کو اعلیٰ دباؤ والے ماحول میں ضم کر کے مسابقتی فہرست تیار کرنا چاہتے ہیں۔ ڈیمیدوف کی صلاحیت کہ وہ پوسٹ‑سیزن کے دباؤ کو نمو میں بدل سکیں، اس نوجوان فارورڈ کے لیے تیز رفتار ایڈاپٹیشن کی نشاندہی کرتی ہے۔
ڈیمیدوف نے اپریل 2024 میں، جب کینیڈینز پہلی راؤنڈ میں باہر ہو گئے تھے، تب گفتگو کی [1]۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ‑سیزن کی اعلیٰ دباؤ والی صورتحال نے انہیں برف پر فیصلہ سازی کو بہتر بنانے اور اہم لمحات کو سنبھالنے کی تعلیم دی [3]۔
2023‑24 کے پوسٹ‑سیزن کے دوران، ڈیمیدوف نے 12 پلے‑آف میچز میں حصہ لیا [2]۔ انہوں نے کہا کہ ان مقابلوں کی شدت نے ایسی سطح کی نمو فراہم کی جو عام تربیتی ماحول میں نقل نہیں کی جا سکتی۔
ڈیمیدوف نے کہا: "مجھے لگتا ہے کہ پچھلے سال کی پلے‑آف مہم نے واقعی مجھے اس سطح پر مقابلہ کرنے کی ضروریات سمجھنے میں مدد دی، اور میں اسے اگلے سیزن میں لانے کے لیے تیار ہوں۔"
اگرچہ بعض رپورٹس نے کینیڈینز کے پوسٹ‑سیزن کے اخراج کو ایک ایسی شکست کے طور پر پیش کیا ہے جس نے ٹیم کو سخت کیا، ڈیمیدوف نے اس تجربے سے حاصل شدہ تیاری پر توجہ دی [1, 3]۔ انہوں نے کہا کہ پلے‑آف کا ذہنی اور جسمانی بوجھ کھلاڑی کی لچک میں اضافہ کرتا ہے۔
ڈیمیدوف نے کہا: "پچھلے سال کے پوسٹ‑سیزن کا تجربہ ایک ایسی چیز ہے جو آپ مشق میں سکھا نہیں سکتے – یہی آپ کو مضبوط بناتا ہے۔"
“"مجھے لگتا ہے کہ پچھلے سال کی پلے‑آف مہم نے واقعی مجھے اس سطح پر مقابلہ کرنے کی ضروریات سمجھنے میں مدد دی۔"”
ڈیمیدوف کا نقطۂ نظر اس تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جہاں نوجوان امیدواروں کے لیے خام اعداد و شمار کے مقابلے میں 'جنگ‑پریکھے' تجربے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ پہلی راؤنڈ کے اخراج کو ایک ترقیاتی آلہ کے طور پر پیش کر کے، کینیڈینز پوسٹ‑سیزن کی ناکامی کے نفسیاتی اثرات کو استعمال کر کے اپنے بنیادی نوجوان کھلاڑیوں کی پختگی کو تیز کر رہے ہیں۔




