ڈراوِڈا مُننیٹرا کازھگم (DMK) کو تمل ناڈو کے مائیِلادُوتھُرائی اور ناگا پٹٹینم اسمبلی حلقوں میں کٹھن مقابلوں کا سامنا ہے۔[1]
نتیجہ ریاستی اسمبلی میں طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے، جہاں DMK‑سرکردہ اتحاد مسلسل تیسرا دور حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور مخالف آل انڈیا اینا ڈراوِڈا مُننیٹرا کازھگم (AIADMK) اس کے روکنے کا ارادہ رکھتا ہے۔[1] کسی بھی ضلع میں جیت اتحاد کی رفتار کو تقویت دے گی، جبکہ شکست کمزوری کا اشارہ ہو سکتی ہے۔ شکست یہ بھی ظاہر کرے گی کہ الحاقی ٹکڑوں کی تقسیم DMK کی برتری کو کمزور کر سکتی ہے۔[1]
دونوں حلقوں میں DMK کو ایک متنوع چھوٹے جماعتوں کے جال کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے جو اتحاد کے ساتھ الحاق کر چکی ہیں، ساتھ ہی AIADMK کے امیدوار بھی اپنے مقامی طاقتور افراد کو پیش کر رہے ہیں۔[2] یہ چھوٹے الحاقی شامل ہیں علاقائی تنظیمیں جو روایتی طور پر ساحلی اضلاع میں رائے تقسیم کرتی رہی ہیں، جس سے مقابلے مزید غیر متوقع بن گئے ہیں۔
چھوٹے الحاقی جماعتیں ۲۱ حلقوں میں براہِ راست مخالف سے ٹکرانے کے لیے تیار ہیں۔[2] آؤٹ لک انڈیا کے مطابق، تمل ناڈو کے ۲۱ حلقوں میں DMK اور AIADMK کے ساتھ الحاق شدہ چھوٹے جماعتیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں گی، جس سے سر براہ مقابلے پیدا ہوں گے جو مقامی رائے کے نقشے کو دوبارہ ترتیب دے سکتے ہیں۔[2] مائیِلادُوتھُرائی اور ناگا پٹٹینم نشستیں ان اعلیٰ درجے کے مقابلوں میں شامل ہیں۔
ضلع کی سطح سے موصول ہونے والی زمینی رپورٹس مخلوط اشارے بیان کرتی ہیں۔[1] زمینی مخلوط اشارے مائیِلادُوتھُرائی اور ناگا پٹٹینم نشستوں کو خاص طور پر غیر متوقع بناتے ہیں۔[1] مائیِلادُوتھُرائی میں ابتدائی سروے نے DMK کے ترقیاتی وعدوں کے لیے شدید جوش دکھایا، تاہم مقامی کسان گروہوں نے آبپاشی کے انتظامی پالیسیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔[1] ناگا پٹٹینم میں ساحلی مچھیرے AIADMK کے مچھلی کے حقوق کے موقف کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ DMK کے حامی حالیہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
مائیِلادُوتھُرائی اور ناگا پٹٹینم ساحلی اضلاع ہیں جہاں زراعت اور مچھلی پکڑنا معاشی بنیاد ہیں، اس لیے آبپاشی کے انتظام اور سمندری پالیسیوں کو ووٹر کے خدشات کا مرکز بناتا ہے۔[1] DMK کی مقامی مہم حالیہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو نمایاں کرتی ہے، جبکہ AIADMK مچھیرے کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتی ہے، جو اس مقابلے کی مسئلہ‑محور نوعیت کو واضح کرتا ہے۔
دونوں جماعتوں نے اپنے پیغامات کو اضلاع کی ترجیحات کے مطابق ڈھالا ہے۔ DMK حالیہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی طرف اشارہ کرتی ہے، اور AIADMK مچھلی کے حقوق کے اپنے موقف کو نمایاں کرتی ہے، جو مقامی معاشی مفادات کی عکاسی کرتا ہے۔[1]
وسیع الیکشن کا بیانیہ DMK‑AIADMK کے مقابلے سے ہی غالب ہے، لیکن الحاقی حریفوں کی موجودگی نئی پیچیدگی کا عنصر شامل کرتی ہے۔ تجزیہ کار انتباہ کرتے ہیں کہ اگر چھوٹے جماعتیں DMK سے کافی رائے ہٹا لیں تو AIADMK واضح اکثریت کے بغیر نشستیں جیت سکتی ہے، جس سے انتخاب کے بعد اتحاد کی مذاکرات مجبور ہوں گے۔[2] اس کے برعکس، DMK اور اس کے الحاقیوں کا متحدہ محاذ دو اضلاع میں فیصلہ کن فتح کو مستحکم کر سکتا ہے۔
جیسے جیسے ووٹنگ کا دن نزدیک آ رہا ہے، مہم کی سرگرمیاں شدت اختیار کر چکی ہیں، دونوں جانب سے اعلیٰ سطح کے ریلیاں اور ہدف شدہ سوشل میڈیا رسائی کی جاتی ہے۔ ووٹر کی شرکت کے تخمینے غیر یقینی ہیں، لیکن اس خطے میں ماضی کے انتخابات میں شرکت تقریباً ۷۰ فیصد رہی ہے، جو اشارہ کرتی ہے کہ متحرک کوششیں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔[1]
“چھوٹے الحاقی جماعتیں ۲۱ حلقوں میں براہِ راست مخالف سے ٹکرانے کے لیے تیار ہیں۔”
اس کا مطلب یہ ہے کہ مائیِلادُوتھُرائی اور ناگا پٹٹینم میں سخت مقابلے DMK کی دیہی اتحاد کی نازک نوعیت کو واضح کرتے ہیں۔ شکست نہ صرف پارٹی کے قانون ساز اعدادوشمار کو کم کرے گی بلکہ یہ بھی اشارہ کرے گی کہ الحاقی ٹکڑوں کی تقسیم اس کی برتری کو کمزور کر سکتی ہے، جو حتمی نتائج سے قبل تمل ناڈو کے سیاسی منظرنامے کو ممکنہ طور پر بدل سکتی ہے۔





