ایک ڈچ صحافی نے ایک مبارکباد پوسٹ کارڈ جس میں پانچ یورو کا بلوٹوتھ ٹریکر شامل تھا، ڈچ بحریہ کے فریگیٹ کو بھیجا، جس سے تقریباً ۲۴ گھنٹے کے لیے جہاز کا مقام ظاہر ہوا۔
یہ واقعہ اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ سستے صارف الیکٹرانکس اعلیٰ قیمت والے فوجی اثاثوں کی سرحد کو توڑ سکتے ہیں، جس سے بحری افواج کو سیکیورٹی پروٹوکولز پر دوبارہ غور کرنا پڑتا ہے۔ تقریباً ۵۰۰ ملین یورو کی قیمت والے جہاز کے ساتھ، پانچ یورو کا آلہ ایک ایسی کمزوری کا دروازہ کھولتا ہے جسے خفیہ معلومات جمع کرنے یا تخریب کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ ٹیسٹ بھیجے گئے اشیاء پر سخت کنٹرول کے لیے ایک اشارہ تھا[1]۔
پوسٹ کارڈ ایک فریگیٹ کو بھیجا گیا جو شمالی سمندر میں کیریئر گروپ کے ساتھ کام کر رہا تھا—اس کا درست مقام بھیجنے والے کو تقریباً ۲۴ گھنٹے کے لیے ظاہر ہوا، اس کے بعد ٹریکر دریافت کر کے غیر فعال کر دیا گیا[1]۔ یہ تجربہ مارچ ۲۰۲۴ میں رپورٹ ہوا، جب ڈچ دفاعی حکام اور میڈیا نے پہلی بار اس خلاف ورزی کے بارے میں جانکاری حاصل کی[2]۔
چھپا ہوا آلہ پانچ یورو میں دستیاب ہے اور بلوٹوتھ کے ذریعے مواصلت کرتا ہے، ایک پروٹوکول جو جہاز کے ہل کے چند درجن میٹر کے اندر پکڑا جا سکتا ہے[1]۔ اس مختصر رینج سگنل کا فائدہ اٹھا کر بھیجنے والا جہاز کی پوزیشن اور حرکت کا اندازہ لگا سکتا تھا، جس سے ۵۰۰ ملین یورو کے جنگی جہاز کو پورے دن کے لیے خطرے میں ڈالا گیا[1]۔
اس کے ردعمل میں، ڈچ وزارت دفاع نے کہا کہ وہ بیٹری والے مبارکباد کارڈوں کو بحری جہازوں پر بھیجنے پر پابندی عائد کر رہی ہے، اور اس نے اس طرح کے خلاؤں کو بند کرنے کے لیے وسیع تر میل ہینڈلنگ کے طریقہ کار کا جائزہ بھی لیا[2]۔ یہ پالیسی تبدیلی اس بڑھتی ہوئی آگاہی کو واضح کرتی ہے کہ بظاہر بے ضرر اشیاء بھی سائبر‑فزیکل خطرات لے کر آ سکتی ہیں۔
یہ معاملہ حالیہ دریافتوں کی ایک سلسلے میں اضافہ کرتا ہے کہ تجارتی IoT آلات—ٹریکرز، ڈرونز، اور حتیٰ کہ سمارٹ کھلونے—فوجی پلیٹ فارمز کے خلاف ہتھیار بنائے جا سکتے ہیں۔ دیگر نیٹو ممبران نے آنے والی پارسلز کے معائنہ کے نظام کو سخت کرنا شروع کر دیا ہے، اور سائبر سیکیورٹی ماہرین نے کہا کہ مخالفین اس طرح کی سستے‑ٹیک حکمت عملیوں کو بڑے پیمانے پر اپنانے کا امکان رکھتے ہیں۔
اگرچہ ٹریکر ایک دن کے بعد غیر فعال کر دیا گیا، یہ واقعہ ایک بنیادی چیلنج کو اجاگر کرتا ہے: بڑے، متحرک اثاثوں کو سستے، شیلف‑پر‑آف ٹیکنالوجی سے محفوظ رکھنا جو روایتی سیکیورٹی پرتوں سے نکل سکتی ہے۔ دنیا بھر کی بحری افواج اب سخت میل کنٹرول کے لاگت‑فائدے کو آپریشنل لچک کے مقابلے میں تول رہی ہیں۔
“پانچ یورو کا بلوٹوتھ آلہ پورے دن کے لیے ۵۰۰ ملین یورو کے جنگی جہاز کا سایہ بن سکتا ہے۔”
یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ جدید فوجیں اپنے خطرے کے ماڈلز کو صرف جدید ہتھیاروں تک محدود نہیں رکھ سکتی بلکہ سستے، آسانی سے دستیاب صارف ٹیکنالوجی کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ پانچ یورو کے ٹریکر کے ذریعے ۵۰۰ ملین یورو کے جہاز کے انکشاف نے دفاعی منصوبہ سازوں کو لاجسٹک سیکیورٹی کو سخت کرنے، میل ہینڈلنگ کی پالیسیوں کا دوبارہ جائزہ لینے، اور چھپی ہوئی الیکٹرانکس کو اہم اثاثوں تک پہنچنے سے پہلے دریافت کرنے کی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کرنے پر مجبور کیا ہے۔





