انگلینڈ کی خواتین رگبی ٹیم نے 18 اپریل کو مرِی فیلڈ میں سکاٹ لینڈ کو 84-7 سے شیک مارا، ریکارڈ کے برابر 12 ٹرائیز حاصل کیں۔
یہ جیت انگلینڈ کے خواتین سکس نیشنز کا عنوان برقرار رکھنے کے عزم کو مستحکم کرتی ہے اور دونوں پروگراموں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو واضح کرتی ہے، جبکہ ریڈ روزیز بھاری پسندیدہ کے طور پر داخل ہوئی ہیں۔
کِک‑آف 13:30 BST پر ہوا[1] اور میچ ایک طرفہ مقابلے میں تبدیل ہو گیا۔ انگلینڈ کے مسلسل حملے نے 12 ٹرائیز پیدا کیں[2]، جبکہ سکاٹ لینڈ صرف ایک اسکور حاصل کر سکا۔
اسکائی سپورٹس کے ایک رپورٹر نے کہا، "انگلینڈ نے مرِی فیلڈ میں سکاٹ لینڈ کے خلاف تباہی کے دوران 12 ٹرائیز کیں۔"[2] گارڈین کی لائیو تبصرہ ٹیم نے بیان کیا، "ریڈ روزیز آج بے مثال تھیں، تاریخی فتح حاصل کی۔"[1]
انگلینڈ کی دفاعی لائن نے سکاٹ لینڈ کو صرف سات پوائنٹس تک محدود رکھا، اور دوسری نصف میں مہمان ٹیم کو صرف ایک ٹرائی تک محدود کیا۔ ریڈ روزیز کے فارورڈ پیک نے بریک ڈاؤن پر غلبہ حاصل کیا، بیکز کے لیے تیز گیند کی فراہمی کو یقینی بنایا، جنہوں نے درستگی کے ساتھ جگہ کا فائدہ اٹھایا۔
84-7 کا نتیجہ خواتین سکس نیشنز کی تاریخ میں سب سے بڑا فرق ہے، جو انگلینڈ کی گہرائی اور حکمت عملی کے نفاذ کو نمایاں کرتا ہے۔ کوچ سائمن مڈلٹن نے اپنی ٹیم کی نظم و ضبط کی تعریف کی اور کہا کہ یہ کارکردگی باقی ٹورنامنٹ کے لیے معیار طے کرتی ہے۔
سکاٹ لینڈ کے کوچ نے کلاس میں موجود خلیج کو تسلیم کیا اور اس سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے ترقیاتی راستوں اور وسائل کے بڑھاؤ کی ضرورت پر زور دیا۔
**What this means** – انگلینڈ کی شاندار جیت انہیں سکس نیشنز کے جدول کے سرے پر رکھتی ہے، جہاں پوائنٹس کا فرق سخت مقابلے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ کارکردگی انگلینڈ میں خواتین رگبی کی شبیہ کو بھی بلند کرتی ہے، جس سے شائقین کی دلچسپی اور اسپانسرشپ میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ دیگر ممالک کو خواتین کھیل میں سرمایہ کاری کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کرتی ہے۔
“انگلینڈ نے مرِی فیلڈ میں سکاٹ لینڈ کے خلاف تباہی کے دوران 12 ٹرائیز کیں۔”
انگلینڈ کی شاندار جیت انہیں سکس نیشنز کے جدول کے سرے پر رکھتی ہے، جہاں پوائنٹس کا فرق سخت مقابلے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ کارکردگی انگلینڈ میں خواتین رگبی کی شبیہ کو بھی بلند کرتی ہے، جس سے شائقین کی دلچسپی اور اسپانسرشپ میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ دیگر ممالک کو خواتین کھیل میں سرمایہ کاری کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کرتی ہے۔





