یورپی یونین میں مقیم کیمیائی پیداوار کنندگان نے یورپی کمیشن سے چینی LB Group کے خلاف اینٹی‑کمپیٹیشن تحقیق شروع کرنے کی درخواست کی ہے [1]۔
یہ درخواست برطانیہ میں ایک حریف کے کیمیائی پلانٹ کے منصوبہ بند خریداری پر مرکوز ہے [1]۔ یہ اقدام ممکنہ طور پر چینی کمپنی کو یورپی یونین میں داخل ہونے والی کیمیائی درآمدات پر موجودہ اینٹی‑ڈمپنگ ڈیوٹیوں سے بچنے کے قابل بنا سکتا ہے [1]۔
یورپ کے کیمیائی پیداوار کنندگان نے اس خریداری کو ایک اسٹریٹجک خلا کے طور پر دیکھتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اگر LB Group برطانیہ میں واقع سہولت کے ذریعے کام کرے تو وہ یورپی یونین میں مصنوعات کی ترسیل اس طرح کر سکتا ہے کہ مقامی صنعت کو غیر منصفانہ قیمتوں سے بچانے کے لیے مقرر کردہ محصولوں کا سامنا نہ کرنا پڑے [1]۔
برسلز میں موجود یورپی کمیشن پر اب زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاہدے کی جانچ کرے کہ آیا یہ مقابلے کے قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے [1]۔ پیداوار کنندگان نے کہا کہ یہ اقدام علاقائی مارکیٹ کی استحکام کو خطرے میں ڈالتا ہے کیونکہ یہ غیر مساوی میدانِ مقابلہ متعارف کراتا ہے جہاں ڈیوٹیاں ثالثی جغرافیہ کے ذریعے مؤثر طور پر بچائی جاتی ہیں [1]۔
درخواست کی رپورٹس 18 اپریل 2026 کو سامنے آئیں [1]۔ LB Group نے ابھی تک اس تحقیق کی درخواست کے ساتھ منسلک ڈیوٹی فرار کے الزامات پر کوئی رسمی جواب جاری نہیں کیا ہے [1]۔
صنعتی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اینٹی‑ڈمپنگ اقدامات یورپی یونین کی کیمیائی صنعت کی بقا کے لیے نہایت اہم ہیں۔ سخت نفاذ کے بغیر، انہوں نے کہا کہ کم لاگت کی کیمیکلز کا بہاؤ یورپی کمپنیوں کی مسابقت کو کمزور کر سکتا ہے [1]۔
“یورپی یونین میں مقیم کیمیائی پیداوار کنندگان نے یورپی کمیشن سے چینی LB Group کے خلاف اینٹی‑کمپیٹیشن تحقیق شروع کرنے کی درخواست کی ہے۔”
یہ تنازع عالمی کارپوریٹ خریداریوں اور علاقائی تجارتی تحفظات کے درمیان کشیدگی کو واضح کرتا ہے۔ برطانیہ کی سہولت کے استعمال سے، ایک چینی کمپنی نظریاتی طور پر اپنی مصنوعات کی 'اصل ملک' کی شناخت بدل سکتی ہے، جس سے یورپی یونین کی اینٹی‑ڈمپنگ محصولی ٹیکس بے اثر ہو جائیں گے۔ اگر یورپی کمیشن کارروائی کرتا ہے تو یہ برکسٹ کے بعد کے تجارتی ماحول میں بلاک کے ذریعے 'تجاوز' حکمت عملیوں کی نگرانی کے لیے ایک مثال قائم کر سکتا ہے۔





