مرد باپ بننے کے عمل کے دوران نمایاں ہارمونل اور ساختی دماغی تبدیلیوں کا سامنا کرتے ہیں [1, 2]۔
یہ حیاتیاتی تبدیلیاں اہم ہیں کیونکہ یہ مردوں کو بچوں کی پرورش کے تقاضوں کے لیے تیار کرتی ہیں اور مانا جاتا ہے کہ یہ براہِ مستقیم والدین کے رویے پر اثرانداز ہو کر بچے کی فلاح و بہبود کو بہتر بناتی ہیں [1]۔
یہ عمل بچے کی پیدائش سے پہلے شروع ہو جاتا ہے [1]۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ مردانہ جسم ایک تیاری کے مرحلے سے گزرتا ہے جس میں ہارمون کی سطح میں تبدیلی اور ذہن کے فعالی راستوں میں تعديل شامل ہے [1]۔ یہ تبدیلیاں دیکھ بھال کے کردار میں منتقلی کو سہارا دینے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔
سائنسدان، جن میں داربی ساکس بے (Darby Saxbe) یونیورسٹی آف ساؤدھرن کیلیفورنیا (University of Southern California) سے شامل ہیں، نے ان تبدیلیوں کا مطالعہ کیا ہے [2]۔ جبکہ کچھ رپورٹس مردانہ ذہن کی دوبارہ ترتیب پر توجہ دیتی ہیں تاکہ دیکھ بھال کے افعال کو بہتر بنایا جا سکے [1]، دیگر نتائج اس عرصے کے دوران مجموعی دماغی حجم میں کمی کی نشاندہی کرتے ہیں [2]۔
یہ ساختی تغیر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دماغ والدینیت کی مخصوص ضروریات کے لیے خود کو سادہ کر رہا ہے۔ حیاتیاتی منتقلی اس بات کی تجویز کرتی ہے کہ باپ بننا صرف ایک سماجی تبدیلی نہیں بلکہ ایک فزیولوجیکل واقعہ ہے جو مردانہ جسم اور دماغ کو متاثر کرتا ہے [1, 2]۔
“باپ بننا صرف ایک سماجی تبدیلی نہیں بلکہ ایک فزیولوجیکل واقعہ ہے”
شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ والدین کی دیکھ بھال ایک حیاتیاتی ضرورت سے معاونت یافتہ ہے جو مادہ کی تبدیلیوں کے مشابہ ہے۔ دماغ کی ساخت اور ہارمون کی سطح میں تبدیلی کے ذریعے، مردانہ جسم خود کو پرورش اور حفاظت کے لیے بہتر بناتا ہے، جس سے ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال کے کردار میں موجود خلا کو پُر کرنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔





