اندھرا پردیش کے اناکاپلی ریلوے اسٹیشن پر زیرِ تعمیر پیدل پل ہفتے کے دن ٹوٹ گیا، جس سے دو کارکنان زخمی ہوئے [1]۔

پیدل پل مصروف اسٹیشنوں پر مسافروں کی حفاظت کے لیے نہایت اہم ہیں۔ یہ واقعہ اس لیے اہم ہے کیونکہ پیدل پل روزانہ ہزاروں مسافروں کے لیے محفوظ عبور فراہم کرتے ہیں، اور کسی بھی رکاوٹ سے مسافروں کو ٹریک پر خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹوٹنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب اس ڈھانچے کو پلیٹ فارم پر جوڑا جا رہا تھا۔ ہنگامی خدمات چند منٹوں میں پہنچیں، اور دو مزدوروں کو بچا کر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں حکام کے مطابق ان کے زخم جان لیوا نہیں تھے [1]۔ پل کے ٹوٹنے کے بعد دو کارکن ہسپتال لے جایا گیا [1]۔

بھارت کے ریلوے نیٹ ورک میں 9,000 سے زائد پیدل پل استعمال ہوتے ہیں تاکہ مسافروں کے بہاؤ کو ٹرینوں کی حرکت سے الگ رکھا جا سکے، یہ ایک لازمی حفاظتی عنصر ہے جس پر حالیہ برسوں میں متعدد نمایاں ناکامیوں کے بعد تنقید کی گئی ہے [1]۔

ریلوے حکام کے مطابق ایک تحقیق شروع کی جائے گی اور مقام کی تعمیراتی رہنما اصولوں کی پابندی کے لیے معائنہ کیا جائے گا [1]۔

یہ پل اناکاپلی اسٹیشن کی خدمت کے لیے بنایا گیا تھا، جو ہوراہ‑چینائی لائن پر ایک مصروف اسٹاپ ہے اور مسافر و مال کی ٹرانسپورٹ کو سنبھالتا ہے؛ اس کے نقصان سے پیدل ٹریفک کی عارضی تبدیلی اور مسافروں کے لیے ممکنہ تاخیر پیدا ہو سکتی ہے۔

حفاظتی ماہرین نے طویل عرصے سے انتباہ کیا ہے کہ تیز رفتار بنیادی ڈھانچے کی توسیع معیار کے معائنے سے پیچھے رہ سکتی ہے، اس لیے سخت نگرانی اور باقاعدہ آڈٹ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ اس جیسے حادثات سے بچا جا سکے۔

اناکاپلی اسٹیشن روزانہ ہزاروں مسافروں کو سہولت فراہم کرتا ہے، اس لیے اس کی سہولیات میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ مقامی مسافروں کے لیے بڑا نقصاندہ ثابت ہوتی ہے۔

پیدل پل کی تعمیر اس سال کے ابتدائی عرصے میں اندھرا پردیش میں ریاستی پیش رفت کے تحت اسٹیشنوں کی جدیدیت کے لیے شروع کی گئی، جس کا مقصد سطحی عبور گاہوں پر بھیڑ کو کم کرنا تھا۔

بھارتی ریلوے منصوبوں پر کام کرنے والے کارکن عموماً نجی ٹھیکیداروں کے تحت ملازم ہوتے ہیں، اور حفاظتی تربیتی معیارات مختلف ہیں؛ وزارت ریلوے نے ایسے رہنما اصول جاری کیے ہیں جن میں باقاعدہ حفاظتی آڈٹ کی ضرورت ہے، لیکن نفاذ میں عدم مساوات موجود ہے۔

مقامی حکام نے ریلوے سیفٹی کمشنر کے دفتر سے ایک ٹیم کو مقام پر بھیجا؛ یہ ٹیم ایک رپورٹ تیار کرے گی جس سے اگر خلاف ورزیاں ملیں تو ٹھیکیدار پر پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔

حالیہ برسوں میں ملک بھر میں متعدد پیدل پل کی ناکامیوں کی اطلاع دی گئی ہے، جس سے شہری سماج کے گروپوں نے سخت نگرانی اور تعمیراتی حفاظتی ریکارڈ کی شفاف رپورٹنگ کا مطالبہ کیا ہے۔

ریلوے وزارت نے جاری منصوبوں کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اعلیٰ خطرے والے مقامات پر تعمیل کی نگرانی کے لیے آزاد حفاظتی آڈیٹرز کی تعیناتی کو ترجیح دے گی۔

حکام کے مطابق مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ پل کی دوبارہ تعمیر تک متبادل راستے استعمال کریں۔ عارضی اشارے اور عملہ پلیٹ فارم پر مسافروں کی رہنمائی کرے گا۔ تعمیر نو کے لیے کئی ہفتے لگنے کی توقع ہے۔

**یہ کیا مطلب ہے**: ٹوٹنے سے بھارت کے بڑھتے ریلوے نیٹ ورک میں تعمیراتی حفاظتی معیارات کے برقرار رکھنے کے جاری چیلنجوں کی نشاندہی ہوتی ہے، جس سے کارکنوں اور مسافروں کے تحفظ کے لیے سخت نگرانی کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔

پل کے ٹوٹنے کے بعد دو کارکن ہسپتال لے جایا گیا۔

ٹوٹنے سے بھارت کے بڑھتے ریلوے نیٹ ورک میں تعمیراتی حفاظتی معیارات کے برقرار رکھنے کے جاری چیلنجوں کی نشاندہی ہوتی ہے، جس سے کارکنوں اور مسافروں کے تحفظ کے لیے سخت نگرانی کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔