18 اپریل 2024 کو جنوبی لبنان میں ایک حملے کے دوران ایک فرانسیسی امن محافظ کا انتقال اور تین دیگر یونائیفِل فوجی زخمی ہوئے [1]، [2]۔
یہ واقعہ اس خطے کی عدم استحکام کو واضح کرتا ہے جہاں اقوام متحدہ کی افواج اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نازک استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ بین الاقوامی امن محافظوں کے خلاف تشدد کی کسی بھی شدت سے نگرانی مشن کی کارکردگی اور بفر زون میں عملے کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
یہ حملہ گندوریہ گاؤں میں ہوا [3]۔ رپورٹس کے مطابق یونائیفِل گشت کو دھماکہ خیز مواد کی صفائی کے دوران نشانہ بنایا گیا [2]۔ ایک فرانسیسی فوجی کا قتل ہوا [1] اور تین دیگر امن محافظ اس مداخلت کے دوران زخمی ہوئے [2]۔
یونائیفِل، یعنی یونائیٹڈ نیشنز انٹریم فورس ان لبنان، نے 1978 میں اپنی موجودگی کے قیام کے بعد تقریباً پچاس سال سے ملک میں کارروائی کی ہے [4]۔ مشن کا بنیادی حکم یہ ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کی نگرانی کی جائے [4]۔ اس کے علاوہ، یہ فورس لبنان کی مسلح افواج کو علاقائی استحکام برقرار رکھنے میں معاونت فراہم کرتی ہے [4]۔
حالیہ حملوں کے ہلاکتوں کے بارے میں رپورٹس میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق چار اقوام متحدہ کے مشاہدین کا قتل ہوا، جبکہ دیگر رپورٹس ایک فرانسیسی فوجی کی وفات کی تصدیق کرتی ہیں [1]، [5]۔ اسی طرح، مشن کے مستقبل کے بارے میں بھی متضاد رپورٹس موجود ہیں؛ بعض ذرائع یکساں اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کے فیصلے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کے حکم کی مدت کے اختتام پر فورس کو ختم کیا جائے، جبکہ دیگر کے مطابق مشن اپنی دہائیوں پر محیط کارروائی جاری رکھتا ہے [4]، [6]۔
یونائیفِل گشت ایک خطرناک علاقے میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا تھا جب اس گولہ بارود کا واقعہ پیش آیا [2]۔ مشن اپنے مقررہ حکم کے تحت سرحد کی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے جاری ہے، حالانکہ کشیدگی برقرار ہے [4]۔
“ایک فرانسیسی فوجی کا قتل ہوا، اور تین دیگر امن محافظ اس مداخلت کے دوران زخمی ہوئے۔”
یونائیفِل کے عملے پر حملہ جنوبی لبنان میں بین الاقوامی مانیٹرز کی نازک صورتحال کو واضح کرتا ہے۔ جیسے ہی مشن لبنان کی مسلح افواج کی معاونت اور غیر مستحکم جنگ بندی کی نگرانی کے درمیان توازن برقرار رکھتا ہے، امن محافظوں کے ہلاکتیں شراکت دار ممالک—مثلاً فرانس—پر سیاسی دباؤ بڑھاتی ہیں کہ وہ اس ماحول میں جہاں حکم مسلسل چیلنج کیا جا رہا ہے، جاری تعیناتی کے خطرات کا جائزہ لیں۔





