جنوبی لبنان میں ہفتہ کی صبح، 18 اپریل 2024 کو ایک فرانسیسی UNIFIL سپاہی کی جان گئی اور تین دیگر زخمی ہوئے جب وہ امن نگہبانی گشت پر تھا [1, 2, 4]۔
یہ واقعہ اسرائیل-لبنان سرحد پر شدید اضطراب کے دوران پیش آیا، جہاں UNIFIL کی افواج جنگ بندی کی نگرانی کرتی ہیں تا کہ وسیع علاقائی تنازعہ کو روکا جا سکے۔
فرانسیسی حکام نے کہا کہ گشت پر ہلکی اسلحہ کی گولیاں چلائی گئیں [2]۔ زخمی تین امن محافظوں میں سے دو کو شدید زخمی کے طور پر درج کیا گیا ہے [3]۔ یہ حملہ جنوبی لبنان کے UNIFIL کی نگرانی والے علاقے میں وقوع پذیر ہوا [1]۔
صدر ایمانوئل میکرون نے اس واقعے پر بیان دیا کہ "ہر شے اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حزب اللہ ذمہ دار ہے" [3]۔ فرانسیسی حکام نے کہا کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر حزب اللہ کے مسلح افراد نے انجام دیا ہے [3]۔
حزب اللہ نے اس واقعے سے کسی بھی تعلق سے انکار کیا ہے [3]۔
یہ حملہ چند دن پہلے اعلان کردہ 10 روزہ جنگ بندی کے بعد پیش آیا [5]۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اس تشدد کی سختی سے مذمت کی اور کہا، "متحدہ عرب امارات اس حملے کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس حساس مرحلے پر لبنان کی حکومت کی حمایت کو دوہرایا ہے" [3]۔
UNIFIL اس خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھتا ہے، تاہم ایک فرانسیسی سپاہی کی موت نے پیرس اور بین الاقوامی برادری پر بفر زون میں سکیورٹی خلاف ورزیوں کے حل کے لیے سیاسی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
“ہر شے اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حزب اللہ ذمہ دار ہے۔”
فرانسیسی امن محافظ کی ہلاکت فرانس اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کو بڑھانے کا خطرہ پیدا کرتی ہے، جس سے نازک 10 روزہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی سفارتی کوششیں پیچیدہ ہو سکتی ہیں۔ چونکہ فرانس لبنان کو نمایاں فوجی اور سیاسی معاونت فراہم کرتا ہے، اس کے اہلکاروں پر حملہ UNIFIL کی سرحدی گشت کے طریقہ کار میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے اور لبنان کی حکومت پر مسلح سرگرمیوں کو روکنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر سکتا ہے۔




