ایک فرانسیسی فوجی کی ہلاکت اور تین دیگر یونائیٹڈ نیشنز امن فوج کے اہلکار زخمی ہوئے، جب جنوبِ لبنان میں ہفتہ، 18 اپریل 2026 کو ایک حملہ ہوا [1, 4]۔
یہ واقعہ ایک اہم سفارتی موڑ پر پیش آیا، جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 10‑دن کی جنگ بندی جمعرات، 16 اپریل کی آدھی رات سے شروع ہونے کے دو دن سے بھی کم عرصے بعد ہوئی [2, 4]۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس واقعے کے بعد ہلاکتوں کی اطلاع دی۔ "ایک فرانسیسی فوجی کی ہلاکت اور تین افراد زخمی ہوئے جب لبنان میں یونائیٹڈ نیشنز امن فوج پر حملہ ہوا," میکرون نے کہا [1]۔
یہ حملہ گندوریہ گاؤں کے قریب ہوا، جو یونائیٹڈ نیشنز عارضی فورس برائے لبنان (UNIFIL) کے زیرِ کنٹرول علاقے میں واقع ہے [2, 5]۔ ایک غیر نامزد UNIFIL spokesperson نے کہا کہ یہ حملہ مشتبہ حزب اللہ کے گھات کا نتیجہ تھا [2]۔
لبنانی وزیرِ اعظم نجیب میکاتی نے تشدد کے بارے میں بیان جاری کیا۔ "ہم اس حملے کی مذمت کرتے ہیں جو فرانسیسی UNIFIL فوجیوں پر ہوا," میکاتی نے کہا [3]۔
فرانسیسی پیرا ٹروپر کی ہلاکت سرحدی علاقے کی نگرانی کرنے والی بین الاقوامی افواج کے لیے خطرے کی نمایاں شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ 10‑دن کی جنگ بندی [5] کا مقصد علاقے کو مستحکم کرنا تھا، لیکن یہ گھات اس معاہدے کے باوجود مسلسل اضطراب کی نشاندہی کرتا ہے۔
UNIFIL اس خطے میں اپنی کارروائی جاری رکھتا ہے تاکہ جنوبِ لبنان کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ فرانسیسی فوج نے ہلاک شدہ فوجی کی شناخت یا تین دیگر امن فوج کے اہلکاروں کے زخمی ہونے کی مخصوص نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں [1]۔
“ایک فرانسیسی فوجی کی ہلاکت اور تین افراد زخمی ہوئے جب لبنان میں یونائیٹڈ نیشنز امن فوج پر حملہ ہوا۔”
یہ حملہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نازک 10‑دن کی جنگ بندی کو کمزور کرتا ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ اس معاہدے نے ابھی تک بین الاقوامی نگرانی کرنے والوں کی سلامتی کو یقینی نہیں بنایا۔ UNIFIL کے فوجیوں کو ہدف بناتے ہوئے، حملہ آور مزید تنازعے کو عالمی سطح پر پھیلانے کا خطرہ مول لیتے ہیں، جس سے ممکن ہے کہ فرانس اور دیگر معاون ممالک کو حزب اللہ کے ساتھ زیادہ براہِ راست تصادم میں کھینچا جائے۔





