ایک فرانسیسی سٹاف سارجنٹ ہفتے کی صبح جان بحق ہوا اور تین ہم منصب امن محافظ زخمی ہوئے جب جنوبی لبنان میں یونائیفیل کی سڑک صاف کرنے والی ٹیم پر گولیاں گرتیں [1]۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فوجی ایک یونائیفیل چوکی کے قریب دھماکے کے مواد ہٹا رہے تھے، یونائیفیل کے ترجمان نے کہا [3]۔
یہ حملہ اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ اسرائیل‑حیزب اللہ کے تصادم کے یونائیفیل کی افواج پر پھیلنے کے خطرے کو بڑھاتا ہے، اور ممکنہ طور پر فرانس اور دیگر معاون ممالک کو علاقائی جنگ میں مزید ملوث کر سکتا ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ امن محافظوں پر ایسے حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے اور مشن کے تئیں فرانس کے عزم کو واضح کیا۔
«ہمارے فوجیوں پر یہ ناقابلِ برداشت حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا،» صدر ایمانوئل میکرون نے کہا [1]۔ انہوں نے مزید کہا، «17ویں پیراشوٹ انجینئر ریجمنٹ کے سٹاف سارجنٹ فلوریان مونٹوریو، مونٹوبان سے، جان بحق ہوا» [1]۔ فرانسیسی حکومت نے ایک فوجی کی موت اور تین زخمیوں کی تصدیق کی، اور اس حملے کا ذمہ دار ایران کی معاونت یافتہ حیزب اللہ قرار دیا، جو سرحد کے پار اسرائیل کے ساتھ گولیاں چلانے میں مصروف ہے [2]۔
یونائیفیل کے امن محافظوں پر ایک یونائیفیل چوکی کے قریب دھماکے کے مواد صاف کرتے ہوئے ہلکی اسلحہ کی گولیاں چلائی گئیں، مشن کے ترجمان نے کہا [3]۔ اقوام متحدہ نے بتایا کہ پچھلے ۲۴ گھنٹوں میں جنوبی لبنان میں تین امن محافظ جان بحق ہوئے، جو فرانسیسی اعداد و شمار سے مختلف ہے اور اس خطے میں کثیر القومی افواج کے لیے وسیع خطرے کی عکاسی کرتا ہے [4]۔
فرانسیسی فوجیں ایک کثیر القومی دستے کا حصہ تھیں جنہیں جنگ بندی کی لائن برقرار رکھنے اور متناوب جنگوں کے بعد شہریوں کی مدد کرنے کا حکم تھا۔ ان کا موجودگی دشمنی کو روکنے اور انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے تھی، لیکن تازہ ترین گولیاں اس سرحدی علاقے کی نازک صورتحال کو واضح کرتی ہیں۔
لبنانی حکام نے اس حملے کی مذمت کی، اور اسرائیلی عہدیداروں نے انتباہ کیا کہ حیزب اللہ کے اقدامات مزید سخت ردعمل کو جنم دے سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے فوری تحقیق کا مطالبہ کیا ہے اور تمام فریقوں سے یونائیفیل کے عملے کی سلامتی کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہ واقعہ اسرائیل اور حیزب اللہ کے درمیان سرحد پار تبادلے کی بڑھوتری کے دوران پیش آیا ہے، جو غزہ کی جنگ کے آغاز کے بعد شدت اختیار کر چکے ہیں۔ فرانس، جو نیٹو کا ایک اہم رکن ہے، نے اپنے فوجیوں کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے اور اگر حملے جاری رہیں تو مشغولیت کے قواعد کو سخت کرنے پر غور کر سکتا ہے۔
“«ہمارے فوجیوں پر یہ ناقابلِ برداشت حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔»”
سٹاف سارجنٹ مونٹوریو کی موت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ یونائیفیل کے امن محافظ اسرائیل‑حیزب اللہ کے تصادم کے پھیلاؤ میں بڑھتی ہوئی حد تک پھنس رہے ہیں، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ فرانس اور دیگر ممالک کو اپنی امن مشن کی ذمہ داریوں اور حفاظتی پروٹوکولز کو اس نازک سرحدی علاقے میں فوجیوں کے تحفظ کے لیے دوبارہ ترتیب دینا پڑ سکتا ہے۔





