متحدہ سلطنت اور آسٹریلیا کے دیکھ بھال کارکن شدید طور پر بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کی وجہ سے اپنے کام کی طرف سفر کرنے کے قابل نہیں ہیں [1, 2, 3]۔

یہ بحران بنیادی دیکھ بھال خدمات کی استحکام کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ جب دیکھ بھال کرنے والے سفر کی لاگت برداشت نہیں کر سکتے تو نازک مریضوں کو روزانہ کی ضروری معاونت سے محروم ہونا پڑتا ہے، جس سے صحت کے نظام پر ایک لہر دار اثر پڑتا ہے۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ جاری مشرق وسطیٰ کے تنازعے سے منسلک ہے [1, 3]۔ یہ قیمتوں میں اضافہ ایندھن کی لاگت کو اس حد تک پہنچا چکا ہے کہ کئی کم آمدنی والے کارکن اور غیر معاوضہ دیکھ بھال کرنے والے اسے مزید برداشت نہیں کر سکتے [1, 3]۔ بعض علاقوں میں مالی دباؤ اتنا شدید ہے کہ ڈرائیور بنیادی ایندھن کی ضروریات کے لیے Afterpay جیسے خرید‑اب‑ادائیگی‑بعد کے خدمات کی طرف مائل ہو گئے ہیں [2]۔

دیکھ بھال کرنے والوں میں تنخواہ یافتہ پیشہ ور اور وہ افراد شامل ہیں جو دوسروں کے لیے غیر معاوضہ دیکھ بھال فراہم کرتے ہیں [1]۔ چونکہ ان میں سے متعدد فرائض متعدد گھریلو دیکھ بھال کے دوروں کے درمیان سفر پر مشتمل ہیں، اس لیے وہ توانائی کی مارکیٹ کی عدم استحکام سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ کام کے لیے ذاتی گاڑیوں پر انحصار ان مزدوروں کو عالمی جیوپولیٹیکل عدم استحکام کے لیے خاص طور پر حساس بناتا ہے، ایک کمزوری جو موجودہ قیمتوں کے اضافے نے واضح کی ہے۔

مارچ 2026 کی رپورٹس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ صورتحال کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہے [2, 3]۔ جہاں BBC نے برطانیہ میں مقیم دیکھ بھال کرنے والوں کی مشکلات کو اجاگر کیا [1]، ABC اور The Guardian کی رپورٹس آسٹریلیا میں ڈرائیوروں کو درپیش اسی طرح کے دباؤ کو ظاہر کرتی ہیں [2, 3]۔ دونوں ممالک ایندھن کی قیمتوں کے اجرتوں سے زیادہ بڑھنے کے سبب ایک ہی معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

دیکھ بھال کارکن شدید طور پر بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کی وجہ سے اپنے کام کی طرف سفر کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

دیکھ بھال کارکنوں کی ایندھن برداشت نہ کر سکنے کی نااہلی بنیادی خدمات کے معاوضہ ماڈلز میں ایک سنگین ناکامی کو واضح کرتی ہے۔ چونکہ یہ کارکن ذاتی نقل و حمل پر انحصار کرتے ہیں تاکہ دیکھ بھال فراہم کر سکیں، ایندھن کی قیمتوں کی عدم استحکام ان کی محنت پر براہِ راست ٹیکس کا اثر ڈالتی ہے، جس سے گھر‑گھریلو دیکھ بھال کے شعبوں میں عملے کی کمی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے جب کارکن اپنی ہی ملازمتوں سے باہر ہو جائیں۔