سینئر BBC Arabic عہدیدار وائیفاک صفا نے کہا کہ حزب اللہ لبنان میں جنگ‑بندی کے آغاز کے باوجود اسلحہ ترک کرنے سے انکار کرتا ہے[1]۔
یہ تبصرہ اہم ہے کیونکہ علاقائی طاقتوں کے ذریعے طے شدہ جنگ‑بندی تمام مسلح گروہوں کے ہتھیار ڈالنے پر منحصر ہے۔ اگر حزب اللہ اپنے اسلحے کو برقرار رکھتا ہے تو الگ الگ جھڑپوں یا وسیع تر بگاڑ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس سے سفارتی مذاکرات اور انسانی امداد کی فراہمی پیچیدہ ہو جاتی ہے—ایسے مسائل جو طویل سالوں کے تصادم کے بعد بھی ملک میں نازک امن کو غیر مستحکم کر سکتے ہیں[1]۔
صفا نے بیروت کے ایک خفیہ بَنکر کے اندر منعقد خصوصی انٹرویو میں کہا، جس مقام کو انہوں نے پارٹی کے سینئر عہدیداروں کے لیے “محفوظ گھر” کے طور پر بیان کیا۔ یہ گفتگو جنگ‑بندی کے اعلان کے فوراً بعد ہوئی، تاہم رپورٹس میں درست آغاز کی تاریخ واضح نہیں کی گئی[2]۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ کی قیادت اس عارضی معاہدے کو ایک وقفے کے طور پر دیکھتی ہے، نہ کہ اس کی فوجی صلاحیتوں کے تسلیم کرنے کے طور پر۔
حزب اللہ طویل عرصے سے اپنے اسلحے کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف روک تھام اور کسی بھی سیاسی مفاہمت میں موازنہ کے طور پر جواز دیتا رہا ہے۔ صفا نے کہا کہ کوئی بھی معاہدہ جو اس گروہ کی مسلح حیثیت پر توجہ نہیں دیتا، مسترد کیا جائے گا، جو تنظیم کے ماضی کے بیانات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلحہ قومی سلامتی اور مذاکراتی طاقت کے لیے ضروری ہے[1]۔ یہ موقف جامع جنگ‑خاتمہ کے متلاشی مذاکرات کاروں کے لیے بلند معیار مقرر کرتا ہے۔
یہ انٹرویو لبنان کے طاقت کے توازن میں کلیدی کھلاڑی کی اندرونی حساب کتاب کی ایک نایاب جھلک پیش کرتا ہے۔ اگرچہ حزب اللہ کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل جاری نہیں ہوا، لیکن سفارتکاروں نے نوٹ کیا ہے کہ اس کے اسلحہ ترک کرنے کے انکار سے جنگ‑بندی کی شرائط کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے اور اس سے پائیدار سیاسی حل کے لیے وقت کی مدت بڑھ سکتی ہے[2]۔
اقوام متحدہ نے جنگ‑بندی کی نگرانی کے منصوبے کے تحت تمام ملیشیاؤں سے درخواست کی ہے کہ وہ اسلحہ محفوظ گوداموں میں جمع کرائیں۔ امریکی عہدیداروں نے اس درخواست کی توثیق کی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ اسلحہ کشی پابندیوں کے خاتمے اور تعمیر نو کی امداد کے کھولنے کے لیے پیشگی شرط ہے۔ تاہم صفا کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ حزب اللہ ایسے مطالبات کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھ سکتا ہے، جس سے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ فریم ورک کی پابندی کے بارے میں شبہات پیدا ہوتے ہیں[1]۔
انسانی حقوق کے گروہ انتباہ کرتے ہیں کہ اسلحے کی مسلسل موجودگی سے ہزاروں خاندانوں کی بے گھرگی، جو ابھی بھی عارضی کیمپوں میں پناہ لے رہے ہیں، مزید طویل ہو سکتی ہے۔ اگر اسلحہ کشی کا واضح راستہ نہ ہو تو امدادی کارواں تاخیر یا ہدف بن سکتے ہیں، جس سے جنگ‑بندی کے بنیادی مقصد یعنی شہریوں کے تحفظ کو نقصان پہنچے گا۔ اس لیے یہ جمود زمینی پر پہلے سے نازک انسانی صورتحال کے لیے براہِ راست خطرہ پیدا کرتا ہے[2]۔
حزب اللہ کے اندر فوجی اور سیاسی شاخیں طویل عرصے سے حکمت عملی ہم آہنگ کرتی آئی ہیں، لیکن معاشی بحران کے دوران مسلح قوت کو برقرار رکھنے کے اخراجات پر حالیہ اندرونی مباحثے سامنے آئے ہیں۔ علاقائی تحقیقاتی مراکز کے حوالہ کردہ تجزیہ کاروں کے مطابق قیادت ہتھیاروں کی علامتی قدر کو عوام کی بجلی کی کٹوتی اور مہنگائی کے دباؤ کے مقابلے میں تول رہی ہے۔ صفا کے انٹرویو سے اشارہ ملتا ہے کہ اسلحے کو برقرار رکھنے کا فیصلہ گروہ کی کسی بھی بعد از تصادم سیاسی ترتیب میں مذاکراتی طاقت کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی ہے[2]۔
“حزب الله يرفض التخلي عن سلاحه”
حزب اللہ کا اسلحہ ترک کرنے سے انکار اس بات کا اشارہ ہے کہ لبنان میں جنگ‑بندی نازک ہی رہتی ہے؛ کسی بھی پائیدار سیاسی مفاہمت کے حصول سے قبل سفارتی کوششوں کو اس مسلح گروہ کے حفاظتی خدشات کو حل کرنا ہوگا۔




