ہاورڈ لٹنک، جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجارت سیکرٹری کے طور پر بیان کیا گیا ہے، نے جمعہ کو سیمافور ورلڈ اکانومی سمٹ میں کینیڈا کی تجارتی حکمت عملی کو “they suck” کہا【2】۔ انہوں نے اسے “the worst strategy I’ve ever heard” قرار دیا【2】۔
یہ بیانات اہم ہیں کیونکہ یہ آئندہ مذاکرات میں امریکہ کے کینیڈا پر دباؤ ڈالنے کے بارے میں ابھرتے تنازعے کو دوبارہ زندہ کرتے ہیں۔ امریکی تجارتی عہدیدار کی سخت تشخیص عوامی رائے کو تشکیل دے سکتی ہے اور ڈیری، لکڑی اور اسٹیل کے شعبوں میں امریکی مذاکرات کاروں کو رعایتیں حاصل کرنے کے لیے وزن فراہم کر سکتی ہے۔
لٹنک کے غصے کے بعد سابق کینیڈا کے سربراہ تجارتی مذاکرات کار سٹیو ورہول نے صحافیوں سے کہا کہ وقت کینیڈا کے حق میں ہے کیونکہ تجارتی کشیدگی بڑھنے کے ساتھ امریکی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے【1】۔ ورہول کا پرامید رویہ اس یقین پر مبنی ہے کہ واشنگٹن کی توجہ دیگر مارکیٹوں پر مرکوز ہونے سے اسے کینیڈا کے ساتھ اپنے موقف کو نرم کرنے پر مجبور کرے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لٹنک کی زبان ٹرمپ انتظامیہ کی بہتر شرائط حاصل کرنے کے لیے بے تکلف بیانیہ استعمال کرنے کی آمادگی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر امریکہ ٹیریف بڑھائے یا کسٹمز کے قواعد سخت کرے تو کینیڈین برآمد کنندگان کو زیادہ لاگت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور کینیڈین پالیسی سازوں کو امریکی-میکسیکن-کینیڈا معاہدے کے ایسے حصوں کی دوبارہ گفت و شنید کرنا پڑ سکتی ہے جو پہلے ہی تنازعہ کا باعث ہیں۔
کینیڈین حکام نے ابھی تک عوامی طور پر ردعمل نہیں دیا، لیکن صنعتی گروہوں نے کہا کہ ایسے بیانات اربوں ڈالر کی دو طرفہ تجارت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اعلیٰ پروفائل فورموں پر ذاتی حملے کس طرح شمالی امریکی تجارتی تعلقات کے سفارتی حساب کتاب کا حصہ بن سکتے ہیں۔
**What this means** – یہ تبادلہ امریکہ کی کینیڈا کے خلاف تجارتی پالیسی کے بڑھتے ہوئے سخت لہجے کو نمایاں کرتا ہے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ واشنگٹن اپنے وسیع ایجنڈے کے تحت اقتصادی دباؤ کے نکات پر انحصار کر سکتا ہے۔ کینیڈین رہنماؤں کو ورہول کے اعتماد کو اس حقیقت کے ساتھ توازن میں رکھنا ہوگا کہ امریکہ کا رویہ زیادہ مقابلہ جاتی ہو رہا ہے، جو مذاکرات کو دوبارہ تشکیل دے سکتا ہے اور سرحد پار تجارت پر منحصر شعبوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
“وہ ناکام ہیں”
یہ تبادلہ امریکہ کے کینیڈا کی تجارتی پالیسیوں کے خلاف سخت رویے کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ واشنگٹن مستقبل کے مذاکرات میں بڑھتے ہوئے اقتصادی دباؤ کا استعمال کر سکتا ہے، جس سے کینیڈین حکام کو حکمت عملی کا دوبارہ جائزہ لینا اور اہم برآمدی شعبوں کا تحفظ کرنا پڑے گا۔





