India کے وزارتِ خارجہ نے ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد فتحالی کو بلا لیا، جب دو Indian-flagged oil tankers کو Strait of Hormuz میں نشانہ بنایا گیا [1]۔
یہ سفارتی کشیدگی امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں وقوع پذیر ہوئی ہے، جو عالمی توانائی کے سپلائی کے لیے اہم تجارتی بحری راستوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔
ہفتہ، 18 اپریل 2026 کو، دو Indian-flagged جہازوں پر فائرنگ کی گئی اور انہیں Strait of Hormuz عبور کرنے سے روک دیا گیا [2, 3]۔ اس واقعے نے New Delhi میں بھارتی حکومت کی فوری ردعمل کو جنم دیا، جہاں Foreign Secretary Vikram Misri سفارتی کارروائیوں میں ملوث تھے [1]۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ India نے اس واقعے پر "گہری تشویش" کا اظہار کیا [4]۔ وزارت کے بیان میں دو جہازوں پر ہونے والی فائرنگ کے سنگینی پر زور دیا گیا [5]۔
مختلف ذرائع کے مطابق اس مداخلت کی نوعیت میں معمولی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ جہازوں کو خلیج عبور کرنے سے روکا گیا [1]، جبکہ دیگر رپورٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ مداخلت کے دوران جہازوں پر فائرنگ کی گئی [2, 6]۔
Vikram Misri نے کہا کہ India نے دو جہازوں پر حملے کے خلاف اپنی "گہری تشویش" ظاہر کرنے کے لیے Iranian envoy کو بلا لیا [6]۔ یہ قدم India کے بحری مفادات کے تحفظ اور متغیر پانیوں میں اپنے جھنڈے والے بیڑے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے ارادے کی نشاندہی کرتا ہے۔
India نے ابھی تک دو ٹینکرز پر کسی بھی جانی نقصان یا مخصوص نقصان کی تفصیل نہیں دی [1, 2]۔ وزارتِ خارجہ صورتحال کی نگرانی جاری رکھتی ہے جبکہ علاقائی استحکام نازک ہی رہتا ہے۔
“India نے اس واقعے پر "گہری تشویش" کا اظہار کیا۔”
یہ واقعہ امریکی-ایرانی کشیدگی کے دوران غیر جانب دار تجارتی ممالک کی نازک پوزیشن کو واضح کرتا ہے۔ سفیر کو بلا کر، India ایک رسمی سفارتی راستہ استعمال کر رہی ہے تا کہ تہران کو یہ انتباہ دیا جا سکے کہ اس کی تجارتی بحری نقل و حمل میں مداخلت ناقابل قبول ہے، اس طرح اس کی اسٹریٹیجک خودمختاری کو خلیج فارس میں بحری سلامتی کی ضرورت کے ساتھ متوازن کیا جا رہا ہے۔





