بی جے پی‑سرکردہ این ڈی اے حکومت نے اعلان کیا کہ پارلیمنٹ میں تجویز کردہ 33 فیصد خواتین کی مخصوص نشستیں لوک سبھا کے نشستوں کی زیر التواء حدود بندی سے منسلک کی جائیں گی [1][2]۔

یہ اقدام اہم ہے کیونکہ یہ ملک کے آئین (131ویں ترمیم) بل پر مباحثے کے دوران ایک کلیدی جنس نمائندگی اصلاح کو روک سکتا ہے، جو اس سال کے آغاز میں مسترد ہوا تھا [2]۔ ناقدین نے کہا کہ یہ ربط کسی بھی تاخیر کا ذمہ دارانہ بوجھ سرگرم کارکنان اور حزبِ اختلاف پر منتقل کرتا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستیں صرف حدود بندی کے بعد ہی نافذ ہو سکتی ہیں— جو 2011 کی مردم شماری پر مبنی عمل ہے [2]۔ تاہم قانون کی وزارت کے اہلکاروں کے بارے میں رپورٹ ہے کہ وہ اس مشق کے مکمل ہونے سے قبل کوٹہ متعارف کرانے کے لیے بل تیار کر رہے ہیں، جیسا کہ لائیو منٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے [4]۔

خواتین کے حقوق کے کارکنان نے کہا کہ یہ وقت بندی اصلاح کو ملتوی کرنے کی حکمت عملی ہے، اور انتظامیہ پر مردم شماری پر مبنی حدود بندی کی تکنیکی تفصیلات کا استعمال کرتے ہوئے فوری اقدام سے گریز کرنے کا الزام لگایا [2]۔ ایک کارکن نے کہا: "یہ ذمہ داری کو شہری معاشرے پر منتقل کرنے کی کوشش ہے"۔

حزبِ مخالف کے رہنماؤں نے کارکنان کے خدشات کو تسلیم کیا اور کہا کہ کوٹہ کو اس عمل سے جوڑنا جو ممکنہ طور پر آئندہ عام انتخابات کے بعد تک جاری رہ سکتا ہے، 131ویں ترمیم کے آئینی مقصد کو کمزور کرتا ہے [2]۔ انہوں نے کہا کہ کوٹہ کی تاخیر خواتین کی نمائندگی کو سالوں تک جامد رکھ سکتی ہے۔

2026 کے بجٹ سیشن کے جاری رہنے کے ساتھ ہی یہ مباحثہ سامنے آتا ہے، جہاں قانون ساز کوٹہ کے مالی اثرات اور کسی بھی تصور شدہ تاخیر کے سیاسی نتائج کا وزن کرتے ہیں۔ اگر مخصوص نشستیں حدود بندی کے بعد تک ملتوی ہو جائیں تو آئندہ انتخابات میں خواتین کے لیے مقرر کردہ نشستیں موجود نہ ہوں گی، جس سے پارٹی کی حکمت عملی اور ووٹر کی توقعات متاثر ہوں گی۔

**یہ کیا مطلب ہے** یہ تنازعہ بھارتی سیاست میں جنس مساوات کے وسیع جدوجہد کو واضح کرتا ہے۔ مخصوص نشست کو طویل حدود بندی کے عمل سے منسلک کر کے حکومت کے پاس نفاذ کو ملتوی کرنے کی لچک برقرار رہتی ہے، جس سے خواتین کی پارلیمانی موجودگی میں بامعنی اضافہ مؤخر ہو سکتا ہے۔ کارکنان اور حزبِ مخالف ممکنہ طور پر واضح ٹائم لائن کے لیے دباؤ بڑھاتے رہیں گے، اور یہ مسئلہ آئندہ قانون سازی کی مذاکرات کا مرکز بن جائے گا۔

حکومت کے مطابق مخصوص نشست صرف حدود بندی کے بعد ہی نافذ ہو سکتی ہے۔

خواتین کے کوٹہ کو حدود بندی سے جوڑنے سے مودی کی انتظامیہ کو اصلاح کو مؤخر کرنے کی گنجائش ملتی ہے، جس سے پارلیمانی جنس مساوات آئندہ انتخابی دور کے بعد تک جامد رہ سکتی ہے، اور کارکنان و حزبِ مخالف کی جانب سے واضح نفاذ کے شیڈول کے لیے دباؤ بڑھ جاتا ہے۔