ایران کی گارڈ نے 16 اپریل کو ہرمز کی خلیج کو بند کر دیا، اور بحری جہازوں نے عمان کے ساحل پر حملوں کی اطلاع دی جبکہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ پر بلیک میل نہیں کیا جائے گا۔ اس بندش کا اعلان اسلامی انقلابی گارڈ کور کے آپریشنل کمانڈ نے کیا اور یہ کئی گھنٹے جاری رہی اس سے قبل کہ سمندری راستے کو اس کی سابقہ حالت میں بحال قرار دیا گیا【1】۔ یہ بندش 1980 کی دہائی کے بعد پہلی بار ہوئی، جیسا کہ ایک یاہو رپورٹ کے مطابق【3】۔

یہ خلیج عالمی پیٹرولیم ترسیلات کا تقریباً ایک‑پانچواں حصہ گزرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی رکاوٹ سے تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، توانائی پر منحصر معیشتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور تجارتی ٹریفک کی سمت تبدیل ہونے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ یورپی اور ایشیائی مارکیٹوں نے فوری ردعمل دکھایا، جہاں برنٹ خام تیل کی قیمت چند سینٹ بڑھ گئی جب تاجروں نے طویل عرصے کی بندش کے خطرے کا اندازہ لگایا۔

ایران نے کہا کہ یہ اقدام امریکی بحری بلاک ایڈ کے ردعمل اور واشنگٹن پر پابندیاں ختم کرنے کے دباؤ کے لیے تھا【3】【1】۔ تہران کے بیان نے اس کارروائی کو قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایک دفاعی اقدام کے طور پر پیش کیا اور اس اشارے کو دیا کہ علاقائی جبر کا کوئی جواب نہیں دیا جائے گا۔

"ہم ان سے بات چیت کر رہے ہیں… اور وہ ہم پر بلیک میل نہیں کر سکتے،" ٹرمپ نے کہا【1】۔ صدر نے اس بات پر زور دیا کہ سفارتی راستے کھلے ہیں لیکن اس خیال کو مسترد کیا کہ تہران دھمکی کے ذریعے امریکی پالیسی پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

برطانیہ کی سمندری سیکیورٹی اتھارٹی نے تصدیق کی کہ واقعات عمان کے ساحل پر پیش آئے، جہاں تجارتی جہازوں نے میزائل نما چمک اور اچانک انجن کی ناکامی کی اطلاع دی【2】۔ عمانی حکام نے گشت کے لیے کشتیاں تعینات کیں اور تجارتی ٹریفک کو انتباہ جاری کیا، جہازوں سے درخواست کی کہ وہ خلیج کی غیر یقینی حیثیت کے دوران بڑھتی ہوئی چوکسیت برقرار رکھیں۔

اگرچہ ایران کی فوج نے دعویٰ کیا کہ خلیج اپنی سابقہ حالت میں بحال ہو گئی ہے، لیکن نیشنل پوسٹ کے ویڈیو میں دکھایا گیا کہ بحری اہلکار ابھی بھی خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بندش اس سے زیادہ دیر تک جاری رہی جسے تہران نے تسلیم کیا【4】۔ یہ تضاد اس مشکل کو واضح کرتا ہے کہ انتہائی متنازعہ سمندری راستے میں حقیقی وقت کی توثیق حاصل کرنا کتنا مشکل ہے۔

ماہرین نوٹ کرتے ہیں کہ مختصر بندش اس بات کو واضح کرتی ہے کہ علاقائی کشیدگی کتنی تیزی سے اس کلیدی نقطے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے جو عالمی توانائی کے بہاؤ کی بنیاد ہے۔ وہ انتباہ کرتے ہیں کہ بار بار کے جھڑپیں ممالک کو راستوں کی تنوع یا اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کی رفتار بڑھانے پر مجبور کر سکتی ہیں، جس سے عالمی سپلائی کے ڈائنامکس میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

"ہم ان سے بات چیت کر رہے ہیں… اور وہ ہم پر بلیک میل نہیں کر سکتے،" ٹرمپ نے کہا۔

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ہرمز کی خلیج کی عارضی بندش بھی عالمی تیل کی فراہمی کو غیر مستحکم کر سکتی ہے اور مارکیٹ کی غیر یقینی کو بڑھا سکتی ہے، ساتھ ہی ایران اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطح کی سفارتی کشمکش کو بھی نمایاں کرتی ہے جو مستقبل کی علاقائی سیکیورٹی پالیسیوں کو تشکیل دے سکتی ہے۔