ایران نے 17 اپریل کو اعلان کیا کہ بحرِ ہرمز تجارتی بحری جہاز رانی کے لیے کھلا ہے؛ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحری بلاک ایڈ ابھی بھی برقرار ہے۔

یہ بحر تقریباً عالمی تیل کی ترسیلات کا پچاس فیصد حصہ لے جاتا ہے، اس لیے کسی بھی خلل سے عالمی توانائی کی قیمتوں اور تجارتی راستوں پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ تہران یا واشنگٹن کی واضح اشارہ بیمہ کاروں، جہاز مالکان اور ان حکومتوں کو متاثر کر سکتی ہے جو تیل کی درآمد و برآمد کے لیے اس پانی کے راستے پر انحصار کرتی ہیں۔ بڑے توانائی اداروں کے تجزیہ کاروں نے کہا کہ ہرمز کے خلاف کسی بھی تصور کردہ خطرے سے برنٹ خام تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، کیونکہ تاجروں نے رسد کے خطرے کو مدنظر رکھا ہے۔

ایرانی حکام نے کہا کہ بحر تجارتی بحری جہاز رانی کے لیے کھلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ حالیہ جنگ بندی کے معاہدے نے اس چینل کے ذریعے معمولی تجارتی ٹریفک کی اجازت دی ہے۔ ایران نے کہا کہ 2024 کے علاقائی جھڑپوں کے بعد بحر مؤثر طور پر بند تھا، اور یہ اعلان اس کی پہلی سرکاری دوبارہ کھولنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے علاقائی شراکت داروں سے معمولی بحری شیڈول کی بحالی کی اپیل کی۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکہ جنگ بندی کی شرائط کی وضاحت تک بحری بلاک ایڈ نافذ رکھتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحری بلاک ایڈ ابھی بھی برقرار ہے۔ انتظامیہ نے کہا کہ ایرانی تیل کی ترسیلات پر موجودہ امریکی پابندیاں برقرار ہیں، جس سے فوری کشیدگی میں کمی مشکل ہو جاتی ہے۔ ایک سینیئر دفاعی عہدیدار نے کہا کہ امریکی جنگی جہاز ایسے جہازوں کو روکنے کے لیے تعینات ہیں جو امریکی ہدایات پر عمل نہیں کرتے۔

بحری کمپنیوں نے مخلوط اشارے دیے ہیں۔ بعض آپریٹرز نے کہا کہ وہ ایرانی اعلان کے حوالہ سے ہرمز کے ذریعے ٹینکر بھیجیں گے، جبکہ دیگر نے امریکی موقف کے حوالہ سے سفر ملتوی کر دیے ہیں۔ اس خطے میں سفر کے لیے بیمہ پریمیم مختلف بیانات کے بعد معتدل طور پر بڑھ گئے ہیں، جو بڑھتے ہوئے خطرے کے ادراک کی عکاسی کرتا ہے۔ جمعہ تک برنٹ فیوچرز کی قیمت فی بیرل $1.20 بڑھ چکی تھی[1]، جو متضاد بیانات پر مارکیٹ کے اضطراب کی عکاسی کرتی ہے۔

آزاد مشاہدین نے ابھی تک اس بحر میں دونوں فریقوں کے بحری وسائل کی عملی حیثیت کی تصدیق نہیں کی ہے۔ تنازعہ جنگ بندی کے معاہدے کی مختلف تشریحات پر منحصر ہے۔ تجزیہ کاروں نے کہا کہ رپورٹس کے ساتھ منسلک 35 فیصد کم اعتماد کی درجہ بندی[1] اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صورتحال ابھی بھی متغیر ہے اور حقائق ابھی سامنے آ رہے ہیں۔ جنیوا میں سفارتی چینلز جنگ بندی کے متن کی وضاحت کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن دونوں فریقوں نے عوامی تبصرے محدود رکھے ہیں۔

ایرانی حکام نے کہا کہ بحر تجارتی بحری جہاز رانی کے لیے کھلا ہے۔

تہران اور واشنگٹن کے متضاد بیانات عالمی تیل کے بازار کو اضطراب میں مبتلا رکھتے ہیں، کیونکہ تاجران اور بحری مال بردار اہم ہرمز راہداری کے ممکنہ خلل کے خطرے کا وزن کرتے ہیں۔