ایران نے ہفتہ کے روز اعلان کیا کہ اس نے بحری راستہ ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے اور وہ کسی بھی جہاز کو نشانہ بنائے گا جو گزرنے کی کوشش کرے۔

یہ راستہ عالمی تیل کا تقریباً بیس فیصد حصہ منتقل کرتا ہے—جس سے کسی بھی خلل کا عالمی تشویش پیدا ہوتی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق جب ایک ٹینکر اور دو ہندستانی جہاز اس تنگ چینل میں داخل ہوئے تو ان پر فائرنگ کی گئی۔ دو ہندستانی جہازوں پر فائرنگ ہوئی[2]۔ ایرانی بحریہ نے کہا کہ اس راستے کے قریب آنے والی ہر کشتی پر کارروائی کی جائے گی۔

تہران نے کہا کہ یہ اقدام امریکی پابندی برائے ایرانی بندرگاہوں اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے ردعمل میں ہے۔ حکومت نے کہا کہ بندش امریکی دباؤ کا براہِ مستقیم ردعمل ہے اور یہ اشارہ ہے کہ وہ اپنے سمندری دعووں کو نافذ کرے گی۔

ہرمز راہ پر منحصر شپنگ کمپنیاں اور حکومتیں خوفزدہ ہوئیں۔ یہ آبنائے تیل کے برآمدات کے لیے ایک سنگین رکاوٹ ہے، اور کسی بھی طویل بندش سے تیل کی مارکیٹیں اوپر جا سکتی ہیں اور سپلائی چین پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے جب ایران نے اس راستے پر کنٹرول سخت کیا ہے۔ پہلے کی بندشیں مختصر مدت کی رہیں، لیکن یہ رجحان تہران کی سیاسی مطالبات کے لیے سمندری طاقت کے استعمال کی آمادگی کو واضح کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافہ کا سبب جوہری مذاکرات اور علاقائی سلامتی کے بڑھتے ہوئے تناؤ ہیں۔

بین الاقوامی برادری نے کہا کہ وہ کسی بھی سفارتی پیش قدمی پر گہری نظر رکھ رہی ہے جو صورتحال کو کم کر سکتی ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ نے سمندری آزادی کا مطالبہ کیا ہے، ابھی تک اس راستے کے دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی واضح اقدام اعلان نہیں ہوا۔

ایران نے کہا کہ وہ کسی بھی جہاز کو نشانہ بنائے گا جو گزرنے کی کوشش کرے۔

ایران کا ہرمز چینل کو دوبارہ بند کرنے اور گزرنے والی کشتیوں کو دھمکی دینے کا فیصلہ وسیع سمندری جھگڑے کے خطرے کو بڑھاتا ہے، ممکنہ طور پر تیل کی قیمتیں بڑھا سکتا ہے اور خطے میں بحریہ کی گشت کو بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔