ایران نے ہفتہ، 18 اپریل 2026 کو بحر حرمز پر فوجی کنٹرول دوبارہ نافذ کر دیا، بحری جہازوں کو نئی پابندیوں کے بارے میں انتباہ کیا۔ [1]

یہ اقدام اس حساس مقام کو مزید بڑھاتا ہے جو عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ سنبھالتا ہے، اور تہران کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ کی پابندی کا مقابلہ کرتا ہے جسے وہ قذاقیت کہتا ہے۔ [1] اس سمندری راستے کی اسٹریٹیجک اہمیت کا مطلب ہے کہ کسی بھی خلل سے عالمی توانائی منڈیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ [4]

ایران کی مسلح افواج اور اسلامی انقلابی گارڈ نے کہا کہ تمام جہازوں کو ایران اور عمان کے درمیان اس تنگ گزرگاہ سے گزرنے سے قبل اجازت حاصل کرنی ہوگی۔ رپورٹس کے مطابق گولیاں دو تجارتی جہازوں پر گئیں جو بحر حرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ [2]

ٹریفک کی مقدار کے بارے میں رپورٹس مختلف ہیں۔ رائٹرز، جس کا حوالہ ایم ایس این نے دیا، کے مطابق توانائی کی لائف لائن دوبارہ تجارتی بحری نقل و حمل کے لیے بند کر دی گئی، جبکہ یاہو کی رپورٹ کے مطابق صرف چند ہی جہاز گزر رہے تھے۔ [1] — یہ تفاوت شپروں کے سامنا کردہ غیر یقینی کو واضح کرتی ہے۔ [2]

یاہو کے مطابق، دو تجارتی جہازوں پر گولیاں لگی جب وہ پابند شدہ علاقے میں راستہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جہازوں کو نقصان پہنچا لیکن ہنگامی مرمت کے بعد وہ سفر جاری رکھنے کے قابل ہوئے۔ [2]

بزنس‑اسٹینڈرڈ کے مطابق، انقلابی گارڈ نے اسی دن چودہ ہندوستان کی سمت جانے والے جہازوں کو بحر حرمز سے گزرنے سے روک دیا۔ یہ روک تھام وسیع تر نفاذی مہم کا حصہ تھی۔ [3]

تہران نے اس اقدام کو اس طرح جواز دیا کہ امریکہ پر 2023 کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا جو نیویگیشن پابندیوں کو آسان بنانے کے لیے تھا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ اس خطے میں اپنے اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے، جس کے باعث ایران نے اپنے خودمختار سمندری علاقوں کا دفاع کیا۔ [1]

بحر حرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم رکاوٹ باقی ہے، اور کسی بھی بڑھوتری سے قیمتوں اور عالمی سپلائی چین پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تجزیہ کار دیکھیں گے کہ تجارتی ٹریفک کتنی جلدی دوبارہ شروع ہوتی ہے اور کیا سفارتی راستے اس کشیدگی کو کم کر سکتے ہیں۔ [4]

ایران نے ہفتہ کے دن بحر حرمز پر فوجی کنٹرول دوبارہ نافذ کیا۔

اس کا مطلب: کنٹرول کو دوبارہ مستحکم کر کے اور جہازوں کو نشانہ بنا کر، ایران 2023 کے امریکہ‑ایران نیویگیشن معاہدے کی حدوں کی جانچ کر رہا ہے، جس سے ایک اہم تیل کے راستے پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ مسلسل خلل عالمی تیل کی قیمتوں کو بڑھا سکتا ہے اور شپنگ کمپنیوں کو طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، جبکہ سفارتی کوششیں خلیج میں وسیع تر بڑھوتری کو روکنے پر مرکوز ہوں گی۔