Iran نے 18 اپریل کو بحیرہ ہرمز پر کنٹرول دوبارہ نافذ کیے[1]، جہازوں نے عمان کے ساحل کے قریب حملوں کی اطلاع دی[2]، اور ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکہ کو بلیک میل نہیں کر سکتا[3]۔
یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کیونکہ ہرمز کی بحری گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیلات کا تقریباً پچاسواں حصہ لے جاتی ہے؛ کسی بھی خلل سے قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، سپلائی چین پر دباؤ پڑ سکتا ہے اور امریکہ‑ایران کے تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے جس نے پہلے ہی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے[4]۔
ایرانی پارلیمانی اسپیکر علی لاریجانی نے کہا کہ اس بحری گزرگاہ سے گزرنا ایرانی اجازت پر منحصر ہوگا اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاستہائے متحدہ اپنی نیتوں کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے[1]۔ انہوں نے کہا: "اس گزرگاہ سے گزرنا ایرانی اجازت پر منحصر ہوگا، اور صدر ہماری نیتوں کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے۔"[1]
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ریاستہائے متحدہ پر جبر نہیں کیا جائے گا۔ "ایران بحیرہ ہرمز کے ذریعے ہمیں 'بلیک میل' نہیں کر سکتا"، انہوں نے اسی دن بعد کہا[3]۔ یہ بیان اشرق الاؤسط کے ساتھ ایک انٹرویو میں ریکارڈ ہوا اور کہا گیا کہ انتظامیہ تہران کے دھمکیوں کے باوجود بحری آزادی کو برقرار رکھے گی[3]۔
یو کے میرائٹائم سیکیورٹی اتھارٹی کے spokesperson نے کہا کہ یہ واقعات عمان کے ساحل کے قریب پیش آئے اور تجارتی آپریٹرز کو احتیاط بڑھانے کا مشورہ دیا[2]۔ "یہ واقعات عمان کے ساحل کے قریب پیش آئے," spokesperson نے کہا[2]۔
ایران کا فیصلہ امریکی بحری تعیناتگیوں کے سلسلے کے بعد آیا جسے تہران ایک مسلسل ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے طور پر بیان کرتا ہے۔ دی گارڈین نے رپورٹ کیا کہ تہران نے دوبارہ عائد کردہ پابندیوں کا اعلان 2023 کے سمندری رسائی معاہدے کی خلاف ورزی کے ردعمل کے طور پر کیا[1]۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اس بحر کو بند کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو شپنگ کمپنیوں کو کیپ آف گڈ ہاپ کے گرد راستہ اختیار کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے سفر کے ہفتے بڑھ جائیں گے اور مال برداری کے اخراجات میں اربوں کا اضافہ ہوگا۔ علاقائی حلیف جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مشورے جاری کیے ہیں کہ جہازوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت دی جائے جبکہ سفارتی چینلز کھلے رہیں[4]۔
یہ کشیدگی خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی سرحدی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے جہاں دونوں فریق سمندری رسائی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ گزرگاہ کو کھلا رکھے گا، ایران کی اجازت پر کنٹرول مستقبل میں پابندیوں اور جوہری مذاکرات کے دوران اسے ایک مؤثر سودے بازی کا ہتھیار فراہم کر سکتا ہے[1]۔
**یہ کیا مطلب ہے** نئی ایرانی پابندیاں بحیرہ ہرمز پر ایک ایسے نقطے کو دوبارہ زندہ کرتی ہیں جو عالمی توانائی منڈیوں اور سمندری سیکیورٹی پر فوری اثر ڈال سکتی ہیں۔ مختصر مدت کے خلل بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کا سبب بن سکتے ہیں اور شپروں کو مہنگے راستے اختیار کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں، جس سے ایران اور اس کے تجارتی شراکت داروں پر اقتصادی دباؤ بڑھ جائے گا۔ سفارتی مشغولیت بڑھتی کشیدگی کو روکنے اور اس اسٹریٹیجک چوکی پر تجارتی بہاؤ کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہوگی۔
“ایران بحیرہ ہرمز کے ذریعے ہمیں 'بلیک میل' نہیں کر سکتا۔”
نئی ایرانی پابندیاں بحیرہ ہرمز پر ایک ایسے نقطے کو دوبارہ زندہ کرتی ہیں جو عالمی توانائی منڈیوں اور سمندری سیکیورٹی پر فوری اثر ڈال سکتی ہیں۔ مختصر مدت کے خلل بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کا سبب بن سکتے ہیں اور شپروں کو مہنگے راستے اختیار کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں، جس سے ایران اور اس کے تجارتی شراکت داروں پر اقتصادی دباؤ بڑھ جائے گا۔ سفارتی مشغولیت بڑھتی کشیدگی کو روکنے اور اس اسٹریٹیجک چوکی پر تجارتی بہاؤ کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہوگی۔





