ایران نے ہفتہ کے روز کہا کہ اس نے حرمز کی خلیج پر سخت کنٹرول دوبارہ نافذ کر دیا ہے جبکہ امریکہ ایران سے منسلک جہازوں کی سوارائی پر غور کر رہا ہے[1][2]۔
عمان اور ایران کے درمیان واقع یہ تنگ سمندری راستہ عالمی تیل کی ترسیلات کا تقریباً پانچواں حصہ لے جاتا ہے، اس لیے کسی بھی خلل سے توانائی کے بازاروں پر اثر پڑ سکتا ہے اور بحری نقل و حمل کی لاگت بڑھ سکتی ہے[2]۔ تہران نے کہا کہ یہ اقدام امریکی بحری بلاک ایڈ کے خلاف ہے جو ایرانی بندرگاہوں پر نافذ ہے، اور ایران نے بھی اس اقدام کو امریکی بحری بلاک ایڈ کے خلاف قرار دیا[2]۔ واشنگٹن نے کہا کہ وہ پابندیوں کے نفاذ اور تجارتی جہازوں کے محفوظ گزر کو یقینی بنانے کی تیاری کر رہا ہے[2][3]۔
امریکی حکام نے کہا کہ وہ ایران سے منسلک جہازوں کی سوارائی پر غور کر رہے ہیں[2]۔ یہ اعلان تیل کی قیمتوں میں 10٪ کمی کے ساتھ ہوا جب ایک اور رپورٹ نے دعویٰ کیا کہ خلیج تجارتی ٹریفک کے لیے کھلی ہے[4]۔ تیل کی قیمتیں ایران کے اعلان کے بعد تقریباً 10٪ گرا دی گئیں[4]۔
اسی دن کی رپورٹ میں، ایک الگ MSN خبر نے کہا کہ ایران نے خلیج کو تجارتی جہازوں کے لیے کھلا اعلان کیا، جس سے اس کی حیثیت کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آئے[4][1]۔ یہ تضاد اس معلوماتی دھند کو واضح کرتا ہے جو اکثر تیزی سے بدلتے جیوپولیٹیکل اقدامات کے گرد پائی جاتی ہے۔
علاقائی حلیف اور حریف دونوں اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب نے ممکنہ بڑھوتری کے خطرے کی نشاندہی کی، جبکہ برطانیہ کی بحری حکام نے جہازوں کو بحری مشوروں پر عمل کرنے کی ہدایت دی۔ اگر سوارائی کی کارروائیاں شروع ہوئیں تو یہ متنازعہ پانیوں میں مستقبل کی مداخلتوں کے لیے مثال قائم کر سکتی ہیں اور پہلے سے کشیدہ امریکی-ایرانی تعلقات پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔
یہ خلیج 2019 میں تیل ٹینکرز پر حملوں کے بعد سے ایک مرکزِ توجہ رہی ہے، اور 2020 کی ایرانی بندشوں نے تیل کی قیمتوں میں مختصر اضافہ کیا۔ تجزیہ کاروں نے کہا کہ تہران کے موجودہ بیانات ماضی کے “سخت کنٹرول” کے انتباہات کی عکاسی کرتے ہیں جو محدود بحری مداخلتوں سے قبل تھے[3]۔
بیمہ کمپنیوں نے پہلے ہی حرمز راہ گزر سے گزرنے والے جہازوں کے لیے جنگی خطرے کی پریمیم بڑھا دی ہے، اور بین الاقوامی بحری تنظیم نے کہا ہے کہ مال کی ترسیلات میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ اگر امریکہ سوارائی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو کیریئرز متبادل راستے جیسے کیپ آف گڈ ہاپ کے گرد استعمال کر سکتے ہیں، جس سے سفر کے اوقات میں ہفتے اضافہ ہو جائیں گے اور عالمی سطح پر مال برداری کی لاگت بڑھ جائے گی[2][4]۔
یورپی یونین کے سفارتکاروں نے اتوار کو دوحہ میں ملاقات کی تاکہ کشیدگی میں کمی پر گفتگو کی جائے اور تہران اور واشنگٹن دونوں سے اس پانی کے راستے کو شہری ٹریفک کے لیے کھلا رکھنے کی اپیل کی۔ یورپی یونین کے خارجہ پالیسی سربراہ نے کہا کہ کوئی بھی خلل عالمی سپلائی چینز کو نقصان پہنچائے گا اور مشترکہ بحری سلامتی کے میکانزم کا مطالبہ کیا[3]۔ اسی دوران، ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا[1] جس میں کہا گیا کہ “ایرانی سے منسلک جہازوں کی سوارائی کی ہر کوشش کا فیصلہ کن مزاحمت کے ساتھ مقابلہ کیا جائے گا”。
“ایران نے کہا کہ یہ اقدام امریکی بحری بلاک ایڈ کے خلاف ہے۔”
سخت کنٹرول کی دوبارہ نافذ کاری یہ اشارہ دیتی ہے کہ تہران عالمی توانائی کے بنیادی راستے پر امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ اگر امریکہ سوارائی کی کارروائیوں کو آگے بڑھائے تو خلیج میں بحری سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مال برداروں کو راستے بدلنے یا زیادہ بیمہ پریمیم طلب کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا، اور یہ بالآخر عالمی صارفین کی توانائی لاگت میں اضافہ کا سبب بنے گا۔





