ایران کی حکومت نے اپنے تقویت شدہ یورینیم کے ذخیرے کو حوالے کرنے کے کسی بھی معاہدے کی تردید کی، جس سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دعوے کے خلاف موقف سامنے آیا۔ [1]
یہ تردید اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ نازک جوہری عدم پھیلاؤ کے ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے اور تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی مذاکرات پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ مسلسل الزامات علاقائی کشیدگی کو بڑھانے اور ایران کے جوہری پروگرام پر مستقبل کے کسی بھی مذاکرات کو پیچیدہ بنانے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ [1]
ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے اپنے تقویت شدہ یورینیم کو تسلیم کرنے پر اتفاق کیا، یہ بیان ایک پریس بریفنگ کے دوران دیا گیا جہاں انہوں نے کہا کہ امریکہ تہران پر اس مواد کے حصول کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ اس دعوے کے ساتھ کوئی عوامی معاہدہ یا دستاویزات پیش نہیں کی گئیں، اور امریکی حکام نے کسی رسمی معاہدے کی تصدیق نہیں کی۔ [1] – یہ دعویٰ امریکہ کی ایران کے تئیں پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کے بارے میں قیاس آرائیوں کو جنم دے گیا۔ [3]
ایران نے اعلیٰ رہنما آیت اللہ علی خامنهای کے بیانات کے ذریعے ردعمل ظاہر کیا، جنہوں نے کہا کہ ایسا کوئی تسلیماتی معاہدہ موجود نہیں اور مسلسل امریکی مطالبات ردعمل کا سبب بن سکتے ہیں۔ خامنهای نے ایران کے جوہری اثاثوں کے دفاع کے حق کو تسلیم کیا اور امریکی مطالبات کو “غیرمستحق” قرار دیا۔ [2]
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جوہری مذاکرات رُک چکے ہیں اور 2025 کی آخری تاریخ کے بعد سے جاری ہیں جس میں ایران کو مشترکہ جامع منصوبے کے تحت پابندیوں کی تعمیل کرنی تھی۔ دونوں فریقوں نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا اشارہ دیا ہے، لیکن عدم اعتماد بلند ہی رہتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بے بنیاد دعوے اعتماد کو کمزور کر سکتے ہیں اور مذاکرات کاروں کے لیے مشترکہ بنیاد تلاش کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔ [3]
**اس کا مطلب**: ایران کی واضح تردید امریکی سیاسی بیانیے اور سفارتی حقیقت کے درمیان خلا کو واضح کرتی ہے۔ بغیر کسی قابل تصدیق معاہدے کے یہ دعویٰ موجودہ جوہری معاہدوں کے تحت کسی بھی فریق کی قانونی ذمہ داریوں کو تبدیل نہیں کرتا، لیکن یہ موقف کو سخت کر سکتا ہے اور کسی بھی تجدید شدہ مذاکرات میں تاخیر پیدا کر سکتا ہے۔ مسلسل عوامی تنازعات دونوں دارالحکومتوں کو غیر مستقیم چینلز یا ثالثی ثالثوں پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں تاکہ جوہری مسئلہ مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
“ایران کا کہنا ہے کہ تقویت شدہ یورینیم کے حوالے کے لیے کوئی معاہدہ موجود نہیں۔”
ایران کی واضح تردید امریکی سیاسی بیانیے اور سفارتی حقیقت کے درمیان خلا کو واضح کرتی ہے۔ بغیر کسی قابل تصدیق معاہدے کے یہ دعویٰ موجودہ جوہری معاہدوں کے تحت کسی بھی فریق کی قانونی ذمہ داریوں کو تبدیل نہیں کرتا، لیکن یہ موقف کو سخت کر سکتا ہے اور کسی بھی تجدید شدہ مذاکرات میں تاخیر پیدا کر سکتا ہے۔ مسلسل عوامی تنازعات دونوں دارالحکومتوں کو غیر مستقیم چینلز یا ثالثی ثالثوں پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں تاکہ جوہری مسئلہ مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔




