لندن کی پولیس نے جمعہ کو اسرائیلی سفارت خانے کے قریب ملنے والے پاؤڈر نما مادے کو غیر خطرناک قرار دیا [1, 2]۔
یہ واقعہ ایک اعلیٰ پروفائل سفارتی علاقے میں حفاظتی لاک ڈاؤن کا سبب بنا، جس نے علاقائی کشیدگی کے دوران سفارت خانے کی سلامتی کی حساسیت کو واضح کیا۔
میٹروپولیٹن پولیس کے افسران نے کینسنگٹن گارڈنز میں موقع پر ردعمل دیا جب آن لائن دعویٰ ہوا کہ ڈرون نے سفارت خانے کی جگہ کو نشانہ بنایا ہے [4, 5]۔ احتیاط کے طور پر حکام نے عوام کے لیے پارک کو بند کر دیا جبکہ ماہرین نے زمین پر ملے مواد کا معائنہ کیا [1, 3]۔
تحقیقات کے بعد میٹروپولیٹن پولیس کے spokesperson نے کہا، "ہم نے اسرائیلی سفارت خانے کے قریب دریافت شدہ اشیاء میں کوئی خطرناک مادہ نہیں پایا" [1]۔ پولیس نے تصدیق کی کہ اشیاء میں صفر خطرناک مادے شناخت کیے گئے [1]۔
میٹروپولیٹن پولیس کے ایک اور spokesperson نے کہا، "ڈرون حملے کے دعویٰ کے بعد اسرائیلی سفارت خانے کے قریب کوئی خطرناک اشیاء نہیں ملی" [2]۔ تحقیق نے نتیجہ اخذ کیا کہ مقام محفوظ رہا اور عوام کو مزید خطرہ نہیں تھا۔
ضد دہشتگردی پولیس کے کمانڈر نے کہا، "اگرچہ اسرائیل کے سفارت خانے پر حملہ نہیں ہوا، ہم سفارت خانے اور اس کی حفاظتی ٹیم کے ساتھ مل کر اس مقام کو محفوظ اور محفوظ رکھنے کے لیے کام جاری رکھتے ہیں" [2]۔
کینسنگٹن گارڈنز کو مقام کی صفائی کے بعد عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا [3]۔ پولیس نے پاؤڈر نما مادے کی درست نوعیت کی وضاحت نہیں کی، صرف یہ بتایا کہ اس سے عوام کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
“"ڈرون حملے کے دعویٰ کے بعد اسرائیلی سفارت خانے کے قریب کوئی خطرناک اشیاء نہیں ملی۔"”
آن لائن دعویٰ کے ردعمل میں دہشتگردی مخالف وسائل کی فوری تعیناتی لندن میں سفارتی مشنز کے گرد اعلیٰ انتباہ کی حالت کو ظاہر کرتی ہے۔ خطرناک مواد کی عدم موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطرہ بے بنیاد تھا، تاہم کینسنگٹن گارڈنز جیسے بڑے عوامی مقام کی بندش ممکنہ حفاظتی خلاف ورزیوں کے دوران سفارت خانے کی سلامتی کو عوامی رسائی پر فوقیت دینے کی ترجیح کو واضح کرتی ہے۔




