کارنٹکا کے وزیر اعلیٰ اور ریاستی بی جے پی کے رہنماؤں نے ہفتہ کو خواتین کی مخصوص نشستوں کے بل کی لوک سبھا میں ناکامی کے بعد شدید الزامات کا تبادلہ کیا۔
یہ تنازع اس لیے اہم ہے کیونکہ اس بل کا مقصد قانون ساز اداروں میں خواتین کے لیے ایک‑تیسواں نشستیں محفوظ کرنا تھا، ایک ایسا تبدیلی جو بھارتی سیاست میں جنس کے توازن کو نیا رخ دے سکتی ہے اور زیرِ غور حد بندی کے عمل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
لوک سبھا کی رائے میں، ۲۹۸ ممبران نے حمایت کی [1] اور ۲۳۰ نے مخالفت کی [2]، کل ۵۲۸ ممبران نے ۱۷ اپریل ۲۰۲۴ کو رائے دی [3] [5]۔ یہ اقدام آئینی ترمیم کے لیے درکار دو‑تہائی ۳۵۲ رائے کی حد سے کم رہا [4]۔
وزیر اعلیٰ سدرامیہ نے کہا، "یہ ایک فریب آمیز سیاسی ڈرامہ ہے جو این ڈی اے حکومت نے ترتیب دیا ہے۔" انہوں نے کہا کہ مرکز کی حکومت اس بل کو دیگر مسائل سے توجہ ہٹانے اور اپوزیشن کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر شوبھا کرندلاجے نے کہا، "کانگریس خواتین کی مخصوص نشستوں کے بل کو انتخابی مقاصد کے لیے سیاسی بنا رہی ہے۔" انہوں نے کہا کہ کانگریس اس ترمیم کو ووٹوں کے لیے استعمال کر رہی ہے جبکہ اس کے حد بندی کے ساتھ ربط کے خلاف ہے۔
کارنٹکا بی جے پی کے ترجمان نے کہا، "ہم کانگریس کے خواتین مخالف موقف کے خلاف احتجاج کریں گے۔" پارٹی نے بنگلور میں سڑک ریلیوں کا اعلان کیا اور اس نتیجے کو اپنی اینٹی‑کانگریس بیانیے کی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔
یہ تنازع گہرے فرق کو ظاہر کرتا ہے: کانگریس خواتین کی مخصوص نشستوں کی حمایت کرتی ہے لیکن اس کو حد بندی سے جوڑنے کے خلاف ہے، جبکہ بی جے پی کا موقف ہے کہ بل کو پارٹizan فائدے کے لیے ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔ دونوں جانبیں آئندہ ریاستی اور قومی انتخابات کے لیے اپنی پوزیشننگ کر رہی ہیں۔
یہ مباحثہ مزید شدت اختیار کرنے کا امکان رکھتا ہے جب پارٹیاں اس ناکام ترمیم کے آئندہ قانون سازی اور انتخابی حکمت عملیوں پر اثر کا جائزہ لیں گی۔
“یہ ایک فریب آمیز سیاسی ڈرامہ ہے جو این ڈی اے حکومت نے ترتیب دیا ہے۔”
کارنٹکا کی کشمکش اس بات کو واضح کرتی ہے کہ خواتین کی مخصوص نشستوں کا بل سیاسی کھیل کا حصہ بن چکا ہے، جہاں پارٹیاں الیکشن سے قبل اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے اس کی شکست کو استعمال کر رہی ہیں، جبکہ خواتین کی نمائندگی بڑھانے کا وسیع ایجنڈا ابھی تک رُک گیا ہے۔





