Lee Cronin کی ہارر ری-امیجیننگ "The Mummy" نے ملکی باکس آفس میں تیسرا مقام حاصل کیا [1]۔
یہ فلم کی کارکردگی اس مشکل کو واضح کرتی ہے کہ مخصوص صنف کی ہارر ٹائٹل کو اعلیٰ بجٹ والے خاندانی اور سائنسی-فکشن بلاک بسٹرز کے مقابلے میں پیش کیا جائے۔ اس مقابلے نے فلم کی ابتدائی ہفتے میں وسیع ناظرین تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا۔
افتتاحی ہفتے کی آمدنی کے تخمینے $12.5 ملین [1] سے $13 ملین [3] کے درمیان متغیر ہیں۔ فلم نے صرف جمعہ کے روز $5.2 ملین کمائے [2]۔ ان اعداد و شمار کے باوجود، یہ فلم دو دیگر بڑے ریلیزز کے مقابلے میں کم آمدنی حاصل کر گئی۔
Universal اور Illumination کی "Super Mario Galaxy Movie" نے ہفتے کا آغاز $30 ملین کی مجموعی آمدنی کے ساتھ کیا [3]۔ سائنسی-فکشن تھرلر "Project Hail Mary" نے بھی ہارر ٹائٹل سے بہتر کارکردگی دکھائی، جس نے Cronin کے منصوبے کو تیسرا مقام دینے میں حصہ لیا [1]۔
صنعتی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ Mario کے سیکوئل کی خاندانی دوستانہ کشش اور سائنسی-فکشن تھرلر کی دلکشی نے "The Mummy" کو اعلیٰ مقام سے محروم رکھا [1]۔ فلم نے ایک کلاسک پراپرٹی کو نئی شکل دینے کی کوشش کی مگر دیگر دو ریلیزز کی مستحکم برانڈ طاقت کے مقابلے میں جدوجہد کی [1]۔
اگرچہ ہارر فلم نے مستحکم موجودگی برقرار رکھی، اس کی کل آمدنی اور اولین مقام کے درمیان فرق نمایاں رہا۔ آمدنی میں یہ فرق موجودہ مارکیٹ کی ترجیح کو واضح کرتا ہے کہ فرنچائز پر مبنی شاندار پیشکشیں اکیلی ہارر ری-امیجیننگز پر فوقیت رکھتی ہیں۔
“The Mummy نے تخمینی $12.5 ملین (تیسرا مقام) کے ساتھ آغاز کیا”
باکس آفس کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تھیٹر کی مارکیٹ شدید مسابقت کا شکار ہے جہاں مخصوص ہارر فلمیں IP پر مبنی بلاک بسٹرز کی وسیع مارکیٹنگ اور وسیع آبادیاتی کشش کے مقابلے میں جدوجہد کرتی ہیں۔ The Mummy کی $13 ملین اور Super Mario Galaxy Movie کی $30 ملین کی آمدنی کے درمیان فرق موجودہ ملکی سینما کے منظرنامے میں خاندانی مرکوز فرنچائزز کی برتری کو واضح کرتا ہے۔





