وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچادو نے 18 اپریل 2024 کو میڈرڈ میں ایک ریلی میں کئی ہزار [1] حامیوں کو جمع کیا [2]۔

یہ تقریب جلاوطن اپوزیشن کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور یورپ میں وینزویلا کی جلاوطن برادری کو متحرک کرنے کی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔

جیسا کہ ماچادو کیریبس میں حکومت کو چیلنج کرتی رہتی ہیں، اس کا اسپین میں موجودگی سیاسی جدوجہد کے بین الاقوامی پہلوؤں کو واضح کرتی ہے۔

ماچادو نے پُییرا ڈیل سول میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ملک کی جمہوری تبدیلی کے لیے تیار ہونے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا: "بدنیتی قوتیں دنیا کو اس بات پر شبہ ڈالنا چاہتی ہیں کہ وینزویلا آزاد انتخابات کے لیے تیار ہے۔"

اپنی زیارت کے دوران، ماچادو نے ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز کے ساتھ ملاقات کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔ وزیرِ اعظم کے دفتر نے اس پیشکش کی تصدیق کی مگر اسے رد کر دیا گیا۔

سانچیز نے کہا: "ہم نے مس ماچادو کے ساتھ ملاقات کی پیشکش کی، مگر انہوں نے اسے اس لیے مسترد کیا کیونکہ یہ مناسب نہیں تھا۔"

ماچادو نے اس رد کی وجہ واضح کی، وزیرِ اعظم کے دیگر سفارتی مصروفیات کا حوالہ دیتے ہوئے۔ انہوں نے کہا: "میں نے ہسپانوی وزیرِ اعظم کے ساتھ ملاقات سے انکار کیا کیونکہ وہ بارسلونا میں پیش قدم رہنماؤں کے سمٹ کی میزبانی کر رہے تھے۔"

ہسپانوی رہنما کے ساتھ ملاقات سے انکار اس وقت آیا جب ماچادو ہزاریوں [1] جلاوطن شہریوں کے ساتھ ہسپین میں اپنی مخصوص سیاسی پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ ریلی جلاوطنوں کے درمیان حمایت کو مستحکم کرنے کا پلیٹ فارم تھی، جو وینزویلا کی حکومت پر بین الاقوامی دباؤ کے لیے ایک اہم بنیاد ہے۔

تقریب کے دوران توجہ آزاد انتخابات کی ضرورت اور منصفانہ عمل کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی مشاہدین کے کردار پر مرکوز رہی۔ ماچادو کی میڈرڈ میں موجودگی اس حکمت عملی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ یورپی دارالحکومتوں کو موجودہ وینزویلا کی انتظامیہ کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش میں کلیدی مقام حاصل ہے۔

بدنیتی قوتیں دنیا کو اس بات پر شبہ ڈالنا چاہتی ہیں کہ وینزویلا آزاد انتخابات کے لیے تیار ہے۔

ماچادو کا وزیرِ اعظم سانچیز کے ساتھ ملاقات سے گریز کرنا اس بات کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اعلیٰ سطح کی سفارتی رابطے کے مقابلے میں جمیعت کی بنیاد پر متحرک کرنے کو ترجیح دیتی ہیں، خاص طور پر جب وہ رہنما "پیش قدم" سمٹ کی میزبانی کر رہا ہو۔ جلاوطن برادری پر توجہ مرکوز کر کے، وہ خود کو عوام کی رہنما کے طور پر اپنی جوازیت کو مستحکم کرتی ہیں، نہ کہ ایک سیاسی مذاکرات کار کے طور پر، اور ساتھ ہی یہ اشارہ دیتی ہیں کہ اپوزیشن ان رہنماؤں کے ساتھ ہم آہنگی نہیں دکھائے گی جو مخصوص نظریاتی ہم آہنگی رکھتے ہیں۔