فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور یونائیفِل نے حزب اللہ پر ہفتے کے روز ایک حملے کا الزام لگایا جس میں ایک فرانسیسی امن محافظ مارا گیا اور تین دیگر زخمی ہوئے [1]، [2]۔

یہ واقعہ جنوبی لبنان میں کشیدگی کو بڑھا دیتا ہے، جہاں اقوام متحدہ کے امن محافظ جاری علاقائی اضطراب اور بار بار ہونے والے جھڑپوں کے درمیان استحکام برقرار رکھنے کے لیے کام کرتے ہیں۔

یہ حملہ 18 اپریل 2026 کو [3]، جنوبی لبنان کے گندھوریہ گاؤں کے قریب ہوا [2]۔ رپورٹوں کے مطابق، یہ حملہ اقوام متحدہ کی عبوری فوج لبنان (یونائیفِل) کی افواج کو نشانہ بناتا ہے۔ ایک فرانسیسی سپاہی اس جھڑپ میں مارا گیا [1]، جبکہ تین دیگر اقوام متحدہ کے امن محافظ زخمی ہوئے [2]، [3]۔

صدر میکرون اور یونائیفِل کے عہدیداروں نے کہا کہ یہ حملہ حزب اللہ کی طرف سے ایک گھات تھا [1]، [2]۔ فرانسیسی رہنما نے کہا کہ قتل اور زخم اس گروپ کے خطے میں کارناموں کی وجہ سے ہیں [2]۔

حزب اللہ نے اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا [1]۔ اس گروپ نے واقعے کی تفصیلی وضاحت نہیں دی، لیکن اس کی قیادت نے فرانسیسی حکومت اور اقوام متحدہ کی مشن کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا۔

یونائیفِل جنوبی لبنان میں سکیورٹی صورتحال کی نگرانی جاری رکھتا ہے۔ مشن کا اختیار جنگ بندی کی نگرانی پر مشتمل ہے، تاہم اس گروپ کو ان علاقوں میں جہاں حزب اللہ موجود ہے، کام کرنے میں بڑھتی ہوئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایک فرانسیسی سپاہی کی جان گئی اور تین دیگر اقوام متحدہ کے امن محافظ زخمی ہوئے۔

یہ واقعہ جنوبی لبنان میں یونائیفِل کی افواج کی نازک صورتحال کو واضح کرتا ہے، جہاں امن محافظ اکثر حزب اللہ کے مضبوط ٹھکانوں کے قریب کام کرتے ہیں۔ فرانسیسی صدارت کی براہ راست الزام تراشی ایک نمایاں سفارتی کشیدگی کی نشاندہی کرتی ہے اور اس سے سکیورٹی اقدامات میں اضافہ یا مشن میں فرانسیسی فوجی شراکت کا دوبارہ جائزہ لینے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔