تمل ناڈو کے مدورائی ضلع میں پولیس اہلکاروں اور ضروری خدمات کے اہلکاروں کے لیے ڈاکی رائے دہی اس ہفتے شروع ہوئی [1]۔
یہ عمل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ انتخاب کے انتظام کے ذمہ دار سیکیورٹی فورسز اور سرکاری ملازمین اپنی تعینات پوسٹ سے نکلے بغیر رائے دہی کا حق استعمال کر سکیں۔ ڈاکی رائے دہی کے استعمال سے ریاست اپنی عملی صلاحیت برقرار رکھتی ہے اور فعال ڈیوٹی پر موجود افراد کی جمہوری شرکت کو یقینی بناتی ہے۔
رائے دہی کا عمل پولیس اہلکاروں اور دیگر محکموں کے اساسی خدمات کے ملازمین کے لیے کھلا ہے جو فی الحال انتخابی ڈیوٹی پر مصروف ہیں [1]۔ یہ اہلکار بھارت کے الیکشن کمیشن کے وضع کردہ رہنما اصولوں کے مطابق اپنی رائے دہی کرتے ہیں [1]۔
عمل کو ہموار کرنے کے لیے حکام نے ضلع بھر میں سہولت مراکز قائم کیے۔ مدورائی میں 10 اسمبلی حلقے ہیں جہاں یہ مراکز اہل ووٹرز کی معاونت کے لیے قائم کیے گئے [1]۔
مختلف ذرائع کے مطابق آغاز کی درست تاریخ میں اختلاف ہے۔ دی ہندو کے مطابق رائے دہی ہفتہ کے دن شروع ہوئی [1]۔ تاہم، اے این آئی کے مطابق تمل ناڈو میں ڈاکی رائے دہی 17 اپریل 2023 کو شروع ہوئی [2]۔
ڈاکی رائے دہی کا استعمال اُن اہلکاروں کے لیے معمول کا طریقہ ہے جن کی ڈیوٹی انہیں روایتی پولنگ سٹیشن تک پہنچنے سے روک دیتی ہے۔ یہ سہولت مراکز ایسے مرکز کے طور پر کام کرتے ہیں جہاں اہلکار کنٹرول شدہ ماحول میں اپنی رائے دہی کرتے ہیں، رائے دہی کی سالمیت کو یقینی بناتے ہیں اور انتخابی مدت کے دوران ریاست کو اساسی خدمات برقرار رکھنے کی اجازت دیتے ہیں [1]۔
“مدورائی ضلع میں پولیس اہلکاروں اور ضروری خدمات کے اہلکاروں کے لیے ڈاکی رائے دہی کا آغاز ہوا”
اہم اہلکاروں کے لیے ڈاکی رائے دہی کا نفاذ بھارتی انتخابات میں ایک اہم لاجسٹک قدم ہے۔ چونکہ پولیس اور انتخابی اہلکاروں کو نظم و ضبط برقرار رکھنے اور عمل کی نگرانی کے لیے پولنگ سٹیشن پر موجود ہونا ضروری ہے، اس لیے وہ اپنے مقامی حلقوں میں رائے دہی نہیں کر سکتے۔ سہولت مراکز ریاست کو ان افراد کی حق رائے سے محرومی کو روکنے کے قابل بناتے ہیں جو جمہوری عمل کا انتظام کرتے ہیں۔





