اینڈریو مالکنسن نے اپنی غلط تشدد کی سزا کے الٹ جانے کے بعد گریٹر مانچسٹر پولیس کے خلاف بے خوف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے [1, 2]۔

یہ معاملہ پولیس کی تحقیقات میں ممکنہ نظامی ناکامیوں اور طویل المدتی غلط قیدوں کی روک تھام میں فارنزک شواہد کے اہم کردار کو واضح کرتا ہے۔

مالکنسن کو 2003 میں سزا دی گئی تھی [1]۔ اس نے DNA شواہد کے واضح ہونے تک 17 سال قید گزاری، جس کے بعد اسے 2023 میں رہائی ملی [1]۔ اب وہ ذمہ داری اور اصلاحات کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ دیگر مشتبهین کو اسی طرح کے سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

"میں چاہتا ہوں کہ اس کے وقوع پذیر ہونے کے اسباب کی بے خوف تحقیق کی جائے," مالکنسن نے کہا [1]۔

آزادِ تحقیق برائے پولیس سلوک (IOPC) نے اس صورتحال پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ چار سابق افسران اس کیس کے ہینڈلنگ کے حوالے سے فی الحال تحقیقات کے زیرِ عمل ہیں [2]۔

"ہم ان الزامات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور مکمل تحقیق کریں گے," IOPC کے ایک ترجمان نے کہا [2]۔

مالکنسن کا کہنا ہے کہ اصل تحقیق میں سلوک کی خرابی ہوئی، جس نے براہِ راست اس کی غلط سزا کا سبب بنایا [1, 2]۔ بے خوف تحقیق کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ غلطیاں کیوں ہوئیں اور پولیس کے عمل نے تقریباً دو دہائیوں تک ایک بے گناہ شخص کے تحفظ میں ناکامی کیوں دکھائی۔

"میں چاہتا ہوں کہ اس کے وقوع پذیر ہونے کے اسباب کی بے خوف تحقیق کی جائے۔"

یہ کیس ابتدائی پولیس تحقیقات اور فارنزک سائنس کی ارتقائی صلاحیتوں کے درمیان تناؤ کو نمایاں کرتا ہے۔ چار سابق افسران کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ IOPC انفرادی غفلت یا نظامی بدعنوانی کی تلاش میں ہے، جو گریٹر مانچسٹر پولیس کے شواہد اور مشتبہ افراد کے انٹرویو کے طریقہ کار میں وسیع تر اصلاحات کا باعث بن سکتی ہے تاکہ مستقبل میں انصاف کے غلط فیصلوں سے بچا جا سکے۔