پشچم بنگال کی وزیرِ اعلیٰ مماتا بنرجی نے ہفتے، 7 ستمبر 2024 کو انکم ٹیکس کی چھاپوں کے بعد بھارتی جنتا پارٹی کو براہِ راست مقابلہ کرنے کا چیلنج دیا [1]۔

یہ مقابلہ پشچم بنگال میں ترنامول کانگریس اور بھارتی جنتا پارٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کو واضح کرتا ہے۔ یہ چھاپے وزیرِ اعلیٰ کے قریبی افراد کو نشانہ بناتے ہیں، جو علاقائی سیاست میں وفاقی ایجنسیوں کے استعمال پر بڑھتے تنازع کی نشاندہی کرتے ہیں۔

انکم ٹیکس کے اہلکاروں نے دو چھاپے کیے [1]۔ یہ کارروائیاں مماتا بنرجی کے مرکزی مشیر مرج شاہ کے گھر کو بھوانی پور علاقے میں نشانہ بنائیں [2]۔ دوسرا چھاپہ ٹرنمول کانگریس کے نامزد امیدوار دیباسش کمار کے گھر پر رش بہاری علاقے میں کیا گیا [2]۔

بنرجی نے کہا کہ یہ چھاپے سیاسی مقاصد پر مبنی ہیں۔ انہوں نے اس کارروائی کے ردِ عمل میں بھارتی جنتا پارٹی کو اپنے ساتھیوں کو نشانہ بنانے سے ہٹ کر خود ان سے براہِ راست مقابلہ کرنے کی ہمت دی۔

"حمت ہے؟ تو براہِ راست مجھ سے مقابلہ کرو," بنرجی نے کہا [1]۔

وزیرِ اعلیٰ نے اہلکاروں کی جانب سے طلب کردہ شواہد کی نوعیت واضح نہیں کی، لیکن انہوں نے وقت اور نشانہ کو ایک سیاسی حکمت عملی کے طور پر پیش کیا، جو ریاستی حکومت اور مرکزی انتظامیہ کے درمیان ایک عام تنازعہ کا نقطہ ہے۔

بھوانی پور اور رش بہاری میں چھاپے ہفتے کے روز بیک وقت ہوئے، جس سے کولکاتا کے ان علاقوں میں نمایاں خلل پیدا ہوا [2]۔ اس وقت بھارتی جنتا پارٹی نے وزیرِ اعلیٰ کے چیلنج پر کوئی باقاعدہ ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔

"حمت ہے؟ تو براہِ راست مجھ سے مقابلہ کرو۔"

یہ واقعہ پشچم بنگال کی ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کی ایجنسیوں کے درمیان جاری کشیدگی کو واضح کرتا ہے۔ چھاپوں کو سیاسی حراست کے طور پر پیش کر کے اور بھارتی جنتا پارٹی کو براہِ راست مقابلے کا چیلنج دے کر، بنرجی خود کو اپنی پارٹی کے اراکین اور ساتھیوں کے خلاف وفاقی تحقیقات کے خلاف بنیادی ڈھال کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔