سیکرٹری مارک وین ملن، جنہوں نے ایک ماہ قبل عہدہ سنبھالا[1]، پہلے ہی DHS کی پالیسیوں پر ڈیموکریٹس اور امیگریشن سخت گیر افراد کی جانب سے تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ جانچ اس لیے اہم ہے کیونکہ ملن کے ابتدائی فیصلے برائے امیگریشن نفاذ اور ایجنسی کے مالی اعانت پر آئندہ سالوں میں محکمہ کی سمت متعین کر سکتے ہیں، سرحدی سکیورٹی سے لے کر پناہ گزینی کے عمل تک ہر چیز پر اثرانداز ہوتے ہیں[1]۔ دونوں پارٹیاں اس بات پر نظر رکھ رہی ہیں کہ آیا نیا سیکرٹری امیگریشن کنٹرول کو سخت کرے گا یا نرم۔
ملن، جو اوکلاہوما کے سابق امریکی نمائندہ ہیں، ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی میں شامل ہونے سے قبل تیرہ سال کانگریس میں خدمات انجام دی[3]۔ ان کے قانون سازی کے ریکارڈ میں ٹیکس اصلاحات، فوجی سابقین کے فوائد، اور خاص طور پر امیگریشن قانون سازی شامل ہے جس نے معتدل اور قدامت پسند دونوں ووٹرز کی توجہ حاصل کی۔
عہدہ سنبھالنے کے چند ہفتوں کے اندر ہی، ڈیموکریٹ قانون سازوں نے کہا کہ DHS ممکنہ طور پر ICE کی ترجیحات کو مکمل طور پر نافذ نہیں کرے گا، جبکہ سخت گیر امیگریشن وکلا نے کہا کہ ملن غیر قانونی عبور کو روکنے کے لیے کافی تیزی سے اقدام نہیں کر رہے[4] – یہ کشیدگی اس کے لیے طے شدہ نازک راستے کو واضح کرتی ہے۔
ابتدائی فیصلوں میں بعض حراست پروگراموں سے فنڈز کی منتقلی اور ICE کو اعلی ترجیحی خطرات پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت شامل ہے، ایسے اقدامات نے کچھ نگرانی کمیٹیوں کی تعریف اور امیگریشن حقوق کے گروپوں کی تنقید دونوں کو متوجہ کیا ہے[1]۔
مختلف ذرائع ملن کی مدت کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں: Politico کے مطابق وہ "ایک ماہ سے زائد عرصے سے اس عہدے پر ہیں"[1]، جبکہ Insider کے مطابق یہ مدت "صرف چند ہفتے نئے کردار میں" ہے[4]۔ محکمہ کے خود کے ٹائم لائن کے مطابق انہوں نے 24 مارچ 2026 کو حلف اٹھایا، جس سے ماہانہ تخمینہ سب سے معتبر ثابت ہوتا ہے۔
**اس کا مطلب**
ملن کا دو طرفہ دباؤ کے ساتھ فوری سامنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امیگریشن بائیڈن انتظامیہ کے ایجنڈے میں ایک اہم مسئلہ رہ جائے گا۔ نفاذ اور انسانی پہلوؤں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ان کی صلاحیت نہ صرف DHS کی کارکردگی پر بلکہ سرحدی پالیسی پر کانگریس میں وسیع تر قانون ساز جدوجہد پر بھی اثرانداز ہوگی۔
“ملن پہلے ہی ڈیموکریٹس اور امیگریشن سخت گیر افراد دونوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔”
ملن کا دو طرفہ دباؤ کے ساتھ فوری سامنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امیگریشن بائیڈن انتظامیہ کے ایجنڈے میں ایک اہم مسئلہ رہ جائے گا۔ نفاذ اور انسانی پہلوؤں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ان کی صلاحیت نہ صرف DHS کی کارکردگی پر بلکہ سرحدی پالیسی پر کانگریس میں وسیع تر قانون ساز جدوجہد پر بھی اثرانداز ہوگی۔





