***وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ہفتے کو قوم سے کہا کہ کانگریس پارٹی غیر‑اصلاحی ہے جب خواتین کی مخصوصی بل مسترد ہوا۔***

یہ شکست حکمران اتحاد کی صنفی مساوات کے اصلاحات کو آگے بڑھانے کی صلاحیت پر سوالات اٹھاتی ہے—ایک مسئلہ جو طویل عرصے سے بھارتی جماعتوں کو تقسیم کرتا رہا ہے۔ چونکہ خواتین ابھی بھی قانون ساز اداروں میں کم نمائندہ ہیں، یہ نتیجہ آئندہ عام انتخابات سے قبل سیاسی حساب کتاب کو تبدیل کر سکتا ہے۔

مودی نے 26 مئی 2024 کو شام 8:30 بجے IST[3] پر اس خطاب کو دیا۔ وزیرِ اعظم کے دفتر سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ رائے دہی “حقیقی تبدیلی” کے لیے ایک پسپائی ہے اور عوام کو مخالفین کو جوابدہ بنانا چاہیے۔

آئین (131ویں ترمیم) بل کا مقصد پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد نشستیں مخصوص کرنا تھا[1]۔ اس نے لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد 543 سے بڑھا کر 815 کرنے کی تجویز بھی پیش کی[2]۔ مخالف جماعتیں، جن کی قیادت انڈین نیشنل کانگریس کر رہی تھی، اس ترمیم کے خلاف رائے دی[4]۔

تقریر کے دوران مودی نے کہا: "کانگریس غیر‑اصلاحی پارٹی ہے۔ حوصلے بلند ہیں"، جب انہوں نے اپنے حامیوں کو متحرک کیا[5][6]۔ انہوں نے کہا کہ حکمران پارٹی لوک سبھا کے 66 فیصد رائے حاصل نہیں کر سکی لیکن اس کے پاس "خواتین کی 100 فیصد حمایت" ہے[7]۔

دوسری طرف کانگریس پارٹی نے اپنی رائے کو آئین میں ترمیم سے قبل طریقہ کار کے خدشات اور وسیع اتفاق رائے کی ضرورت کے اصولی موقف کے طور پر defended کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پارٹی کی مخالفت تیزی سے ادارہ جاتی تبدیلیوں پر شک رکھنے والے ووٹرز کے درمیان اس کی مقبولیت بڑھا سکتی ہے، لیکن اس سے اس کے خلاف یہ تصور بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ صنفی مساوات میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

**یہ کیا معنی رکھتا ہے:** یہ واقعہ بھارت میں سماجی اصلاحات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی قطبی تقسیم کو واضح کرتا ہے۔ مخالفین کو غیر‑اصلاحی کے طور پر لیبل لگا کر حکومت مستقبل کے قانون سازی کے مقابلوں کو اخلاقی بنیادوں پر پیش کرنا چاہتی ہے، جس سے عوامی رائے اور ووٹر کے رویے پر اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر آئندہ انتخابات کے پیش نظر۔ خواتین کی مخصوصی ترمیم کی ناکامی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھارتی قانون ساز اداروں میں صنفی مساوات حاصل کرنے کے لیے حکمران پارٹی کی موجودہ توقعات سے زیادہ اتحاد سازی کی ضرورت ہوگی۔

کانگریس غیر‑اصلاحی پارٹی ہے۔

یہ واقعہ بھارت میں سماجی اصلاحات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی قطبی تقسیم کو واضح کرتا ہے۔ مخالفین کو غیر‑اصلاحی کے طور پر لیبل لگا کر حکومت مستقبل کے قانون سازی کے مقابلوں کو اخلاقی بنیادوں پر پیش کرنا چاہتی ہے، جس سے عوامی رائے اور ووٹر کے رویے پر اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر آئندہ انتخابات کے پیش نظر۔ خواتین کی مخصوصی ترمیم کی ناکامی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھارتی قانون ساز اداروں میں صنفی مساوات حاصل کرنے کے لیے حکمران پارٹی کی موجودہ توقعات سے زیادہ اتحاد سازی کی ضرورت ہوگی۔