وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ریاستی حکومتیں خواتین کی مخصوص نشستوں کے بل کی حمایت نہیں کر رہیں اور انہوں نے اعلان کیا کہ بنگال میں الیکٹران کے پیشگی انتخابات کے دوران رابطہ جاتی منصوبوں کی کل لاگت 18,680 کروڑ روپے ہوگی۔

یہ بیانات اس لیے اہم ہیں کیونکہ بھارت کے بڑے ریاستی انتخابات اس سال کے بعد کے لیے طے شدہ ہیں، اور وزیرِ اعظم کے تبصرے حالیہ پارلیمانی شکست کو ایک پارٹیاتی مسئلہ میں بدل دیتے ہیں۔ خواتین کی مخصوص نشستوں کے بل کی عدم حمایت کو ایک سیاسی موقعے کی کھوئی ہوئی صورت میں پیش کر کے، مودی مخالف جماعتوں پر دباؤ ڈالنے اور اپنی اتحاد کو صنفی‑مرکوز اصلاحات کے علمبردار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مودی نے کہا کہ ریاستی حکومتوں نے خواتین کے بااختیار بنانے کا موقع کھو دیا۔ خواتین کی مخصوص نشستوں کا بل، جس کے تحت پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کی جاتی، پچھلے ہفتے لوک سبھا میں مسترد ہوا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ٹی ایم سی‑سرکردہ مغربی بنگال حکومت اور ڈی ایم کے‑سرکردہ تمل ناڈو انتظامیہ کو اس موقعے کو استعمال کرتے ہوئے اس مقصد کی وکالت کرنی چاہیے تھی، نہ کہ خاموش رہنا۔

ٹیلی ویژن پر نشر کردہ خطاب کے ایک الگ حصے میں مودی نے مغربی بنگال میں 18,680 کروڑ روپے کے جملہ رابطہ جاتی منصوبوں کا اعلان کیا۔ اس منصوبے میں نئی شاہراہیں، ریلوے کی بہتری، اور دریا‑نقل و حمل کے روابط شامل ہیں جو تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے اور ریاستی انتخابات سے قبل روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ جاتی منصوبوں کی کل لاگت 18,680 کروڑ روپے ہے، اور اس سرمایہ کاری کو ووٹرز کے لیے ایک واضح فائدے کے طور پر پیش کیا۔

سیاسی تجزیہ کاروں نے کہا کہ یہ وقت وزیرِ اعظم کی وسیع تر حکمت عملی کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس کا مقصد سوئنگ ریاستوں میں حمایت کو مستحکم کرنا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے اخراجات کو نمایاں کر کے، مرکزی حکومت غیر فیصلہ کن ووٹرز پر اثرانداز ہونے کی امید رکھتی ہے جو ترقیاتی وعدوں کو مقامی حکمرانی کے خدشات کے مقابلے میں تول رہے ہوں گے۔

یہ تنقید اس کے ساتھ ساتھ اس مرکزی حکومتی بیانیے کو بھی واضح کرتی ہے کہ مخالف پارٹیوں کے زیرِ انتظام ریاستیں قومی ترجیحات سے بے ربط ہیں۔ جیسے جیسے پارٹیاں مہم چلا رہی ہیں، خواتین کی نمائندگی اور بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کا مسئلہ ریلیوں اور تشہیری مٹیریل میں نمایاں طور پر سامنے آئے گا، اور علاقائی رائے دہندگان کے نظریات پر اثر انداز ہوگا۔

**یہ کیا معنی رکھتا ہے** – مودی کا دوہرا انداز، یعنی حریف ریاستی حکومتوں پر تنقید کے ساتھ ساتھ بڑے سرمایہ کاری کا وعدہ، پیشگی بنگال اور تمل ناڈو کے انتخابات کے الیکٹران کے حساب سے انتخابی مساوات کو تبدیل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ خواتین کی مخصوص نشستوں اور رابطہ جاتی منصوبوں پر زور دے کر، مرکز حکومت خود کو جنسیت کے امور میں پیش قدم اور معاشی ترقی کے عزم کے حامل کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، جس سے حکومتی اتحاد کی طرف ووٹر کی وفاداری میں تبدیلی متوقع ہے۔

مودی نے کہا کہ ریاستی حکومتوں نے خواتین کے بااختیار بنانے کا موقع کھو دیا۔

مودی کا دوہرا انداز، یعنی حریف ریاستی حکومتوں پر تنقید کے ساتھ ساتھ بڑے سرمایہ کاری کا وعدہ، پیشگی بنگال اور تمل ناڈو کے انتخابات کے الیکٹران کے حساب سے انتخابی مساوات کو تبدیل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ خواتین کی مخصوص نشستوں اور رابطہ جاتی منصوبوں پر زور دے کر، مرکز حکومت خود کو جنسیت کے امور میں پیش قدم اور معاشی ترقی کے عزم کے حامل کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، جس سے حکومتی اتحاد کی طرف ووٹر کی وفاداری میں تبدیلی متوقع ہے۔