وزیرِ اعظم نریندر مودی ایک دن بعد جب لوک سبھا نے Women’s Reservation Bill کو مسترد کیا [1]، لائیو ٹیلی ویژن کے ذریعے قومی خطاب کریں گے۔

یہ شکست اس لیے اہم ہے کیونکہ اس قانون کا مقصد خواتین کے لیے نشستوں کا ایک تہائی حصہ یقینی بنانا تھا، جو کئی ماہرین کے نزدیک بھارتی سیاست میں جنس کی مساوات کے لیے لازمی قدم سمجھا جاتا ہے [4]۔

یہ تجویز لوک سبھا کی کل نشستوں کی تعداد 543 سے بڑھا کر 850 کر دیتی، جس سے اضافی نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کی جا سکتی تھیں [4]۔

اس قانون کی منظوری کے لیے دو‑تھائی اکثریت درکار تھی، جس حد تک مخالف جماعتوں نے کہا کہ وہ پہنچ نہیں سکتی [1]۔

مخالف پارٹیوں کے رہنماؤں نے کہا کہ یہ قانون جلدبازی میں پیش کیا گیا اور اس میں اتفاق رائے کی کمی ہے، جبکہ حکمران جماعت نے اسے طویل عرصے سے زیر التواء اصلاح قرار دیا۔

اس کے ردعمل میں مودی نے لائیو خطاب کا اعلان کیا تاکہ حکومت کے موقف کی وضاحت کی جا سکے اور خواتین کے بااختیار بنانے کے اگلے اقدامات کا خاکہ پیش کیا جا سکے [2]۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خطاب انتظامیہ کے وسیع ایجنڈے پر مرکوز ہوگا، جس میں تمل ناڈو اور مغربی بنگال کے آئندہ صوبائی انتخابات شامل ہیں، جن پر اس قانون کے نتیجے کا اثر پڑ سکتا ہے [3]۔

یہ خطاب ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نشر کیا جائے گا، جس سے ملک بھر کے وسیع سامعین تک رسائی حاصل ہوگی۔

اگر حکومت اس قانون کو دوبارہ پیش کرنے کا فیصلہ کرے تو اسے اگلی پارلیمانی سیشن سے قبل دونوں ایوانوں میں وسیع حمایت حاصل کرنی ہوگی۔

Women’s Reservation Bill کا مقصد پارلیمانی نشستوں کا 33 ٪ خواتین کے لیے مخصوص کرنا تھا۔

Women’s Reservation Bill کی ناکامی بھارت کے پارلیمانی نظام میں جنس‑محور اصلاحات کے پیش رفت کے چیلنجوں کو واضح کرتی ہے۔ وزیرِ اعظم کا لائیو خطاب عوامی رائے کو شکل دینے اور ممکنہ طور پر ایک نیا تجویز پیش کرنے کی بنیاد رکھنے کی کوشش کا اشارہ ہے جو پاس ہونے کے لیے دو‑تھائی سپر میجورٹی حاصل کر سکے۔