امریکی خلائی ایجنسی NASA کے محققین، جو Glenn Research Center اور Johnson Space Center میں کام کرتے ہیں، نے اپریل 2026 میں ایک تحقیق شائع کی جس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ چاندی ماحول آگ کے شعلے کے ابھار اور پھیلاؤ کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے، جس سے مستقبل کے انسانی مشنز کے لیے ایک نیا حفاظتی چیلنج پیدا ہوتا ہے [1]۔

یہ نتیجہ اس لیے اہم ہے کیونکہ NASA آئندہ دہائی کے اندر انسانوں کو چاند پر واپس بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے، اور مسکنات میں آگ کا اندیشہ عملے اور سازوسامان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، جس سے وسیع پیمانے پر Artemis پروگرام اور تجارتی چاندی ترقی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے [2]۔

تحقیق واضح کرتی ہے کہ چاند کی کششِ ثقل زمین کی صرف ایک‑چھٹی ہے، جس سے وہ بلندی کی قوتیں کم ہو جاتی ہیں جو عام طور پر شعلے کو محدود رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ کم‑کششی ماحول میں گرم گیسیں سست رفتار سے اوپر اٹھتی ہیں، جس سے شعلے افقی سطح پر پھیل سکتے ہیں بجائے عمودی طور پر اوپر جانے کے – یہ رویہ International Space Station پر مائیکرو‑کششی تجربات میں مشاہدہ کیا گیا ہے [2]۔

چاندی سطح پر کم فضائی دباؤ بھی احتراق کی کیمسٹری کو تبدیل کرتا ہے۔ تقریباً خلا کی حالت میں، کوئی بھی آگ مسکنات یا life‑support نظاموں کے اندر فراہم کردہ آکسیجن پر منحصر ہوگی۔ محققین نے کہا کہ آکسیجن کی غیر ارادی رہائی ایک انتہائی فعال ماحول پیدا کر سکتی ہے جہاں ایک چھوٹا سا سپارک بھی تیزی سے جل سکتا ہے [2]۔

وہ مسکناتی ڈیزائن جو life‑support اور propulsion کے لیے آکسیجن‑غنی ماحول استعمال کرتے ہیں، خطرے کو مزید بڑھاتے ہیں۔ مصنفین نے کہا: "اگر کسی دباؤ والے ماڈیول کے اندر آگ لگ جائے تو ارتقائی فقدان کی وجہ سے شعلہ پورے حجم کو گھیر سکتا ہے اس سے پہلے کہ عملہ ردعمل دے," اور اس بات کی نشاندہی کی کہ روایتی fire‑suppression نظام ان حالات میں کم مؤثر ہو سکتے ہیں۔

مضمون متعدد تخفیفی حکمت عملیوں کی سفارش کرتا ہے: آگ‑مقاوم مواد کا استعمال، فوری ردعمل والے پتہ لگانے کے سینسر نصب کرنا، اور ایسے حصے ڈیزائن کرنا جو جلدی الگ کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ یہ مزید زمینی ٹیسٹوں کی ضرورت پر زور دیتا ہے جو lunar‑simulated چیمبرز میں کیے جائیں تاکہ اگلے انسانی لینڈنگ سے قبل حفاظتی پروٹوکول کو بہتر بنایا جا سکے۔

NASA کے اہلکاروں نے کہا کہ یہ تحقیق آئندہ مسکناتی ڈیزائن کے جائزوں میں شامل کی جائے گی اور آتش‑روک اور ہنگامی ردعمل کی تکنیکوں پر خلائی مسافروں کی تربیت کو مطلع کرے گی۔ ایجنسی کا ارادہ ہے کہ نتائج بین الاقوامی شراکت داروں اور چاندی بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے والی تجارتی اداروں کے ساتھ شیئر کیے جائیں۔

**یہ کیا معنی رکھتا ہے**: یہ تحقیق چاندی تحقیق کے ایک پہلے کم سراہے گئے خطرے کو واضح کرتی ہے۔ جیسے جیسے ایجنسیاں اور کمپنیاں چاند پر پائیدار موجودگی قائم کرنے کی دوڑ میں ہیں، آگ کی حفاظت کو مسکناتی انجینئرنگ، عملے کی تربیت اور مشن کی منصوبہ بندی کے ہر پہلو میں شامل کرنا ضروری ہوگا تاکہ ممکنہ تباہ کن واقعات سے بچا جا سکے۔

چاند کی کم کششِ ثقل آگ کے پھیلاؤ کو زمین سے زیادہ تیز کر سکتی ہے۔

یہ تحقیق آگ کی حفاظت کو چاندی مسکنات کے بڑھتے ہوئے تکنیکی چیلنجوں کی فہرست میں شامل کرتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ڈیزائنرز کو مواد، پتہ لگانے کے نظام اور ہنگامی کارروائیوں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا تاکہ عملے کی حفاظت اور مہنگے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ رکھا جا سکے۔