نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی (NIST) کے سائنسدانوں نے فوٹونک یکجا سرکٹس پیش کیے ہیں جو مرئی طیف کے ہر طولِ موج پر لیزر پیدا کرتے ہیں [1]۔
یہ پیش رفت سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی میں تاریخی رکاوٹ کو دور کرتی ہے، کیونکہ یہ مخصوص رنگوں کی روشنی پیدا کرنے کا ایک مختصر طریقہ فراہم کرتی ہے۔ لیزرز کو مکمل مرئی رینج میں ترتیب دینے کی صلاحیت پیچیدہ آپٹیکل نظاموں کے چھوٹے پیمانے پر نفاذ کو ممکن بناتی ہے، جن کے لیے پہلے بڑے آلات کی ضرورت ہوتی تھی۔
گیٹھرسبرگ، میری لینڈ میں این آئی ایس ٹی کے مراکز کے محققین نے فوٹونک صلاحیتوں کے ایک مخصوص خلا کو پُر کرنے پر توجہ مرکوز کی [1]۔ پہلے، مختصر سیمی کنڈکٹر لیزرز سبز سے پیلے رینج کے اندر، خاص طور پر 532 nm سے 633 nm کے درمیان، کام کرنے میں دشواری کا سامنا کرتے تھے [2]۔ یہ خلا ایک مکمل مرئی روشنی کے رنگوں کے مجموعے کی ضرورت رکھنے والے یکجا فوٹونک چپس کی ترقی کو محدود کرتا تھا۔
نئے فوٹونک یکجا سرکٹس ان رکاوٹوں کو عبور کرتے ہیں، کیونکہ یہ مرئی طیف کے کسی بھی طولِ موج کی تخلیق ممکن بناتے ہیں [1]۔ ان صلاحیتوں کو خوردہ سرکٹس میں یکجا کر کے، ٹیم نے ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کیا ہے جسے مختلف تکنیکی اطلاقات کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے [3]۔
ان پیش رفتوں کے متعدد شعبوں، جیسے مواصلات اور حسّاسیت، پر اثر انداز ہونے کی توقع ہے [2]۔ چپ پر طولِ موج کو درست طور پر کنٹرول کرنے کی صلاحیت بیرونی ترتیب دینے والے اجزاء کی ضرورت کو کم کرتی ہے، جس سے زیادہ مؤثر اور چھوٹے آلات کی تخلیق ممکن ہو سکتی ہے [3]۔
NIST کے مطابق یہ نتائج اپریل 2026 میں اعلان کیے گئے [1]۔ یہ تحقیق مکمل یکجا آپٹیکل نظاموں کی طرف ایک اہم قدم ہے، جہاں کسی بھی رنگ کی روشنی ایک ہی سیمی کنڈکٹر چپ پر پیدا اور کنٹرول کی جا سکتی ہے [1]۔
“فوٹونک یکجا سرکٹس جو مرئی طیف کے ہر طولِ موج پر لیزر پیدا کر سکتے ہیں”
532 nm سے 633 nm کے درمیان خلا کو ختم کرنا نینو فوٹونکس کے میدان میں ایک بنیادی رکاوٹ کو دور کرتا ہے۔ ایک ہی چپ پر کسی بھی مرئی طولِ موج کو ممکن بنانا اس ٹیکنالوجی کے ذریعے انتہائی مختصر اسپییکٹرو میٹر، جدید طبی حسّاسات اور زیادہ مؤثر آپٹیکل مواصلاتی نیٹ ورکس کی تخلیق ممکن بناتا ہے، جن کو اب بڑے، الگ الگ لیزر ذرائع پر انحصار نہیں رہتا۔




