ماہرین تجزیہ کار اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ نیوسکیل پاور شدید حصص قیمت میں کمی کے بعد وسیع مارکیٹ کی فروخت کے دباؤ سے بچ سکتی ہے یا نہیں [1]۔

یہ تغیرات چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹر کمپنی کے مستقبل کو خطرے میں ڈالتے ہیں، کیونکہ سرمایہ کار اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ ادارے کے پاس طویل مدتی کساد بازاری کو برداشت کرنے کے لیے درکار نقدی بہاؤ موجود نہیں ہے [1, 2]۔

نیوسکیل پاور، جو نیو یارک اسٹاک ایکسچینج پر ٹکر SMR کے تحت تجارت کرتا ہے، نے سال کے آغاز سے اپنے حصص کی قیمت میں تقریباً 30٪ کمی دیکھی ہے [1]۔ کمپنی نے 2022 کی اپنی ابتدائی عوامی پیشکش کے بعد سے کوئی منافع نہیں دکھایا [2]۔

مالی عدم استحکام کے باوجود، کمپنی نیوکلیئر شعبے میں اپنی موجودگی برقرار رکھتی ہے۔ اس کے دو چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹر ڈیزائنز کو امریکی نیوکلیئر ریگولیٹری کمیشن کی منظوری مل چکی ہے [2]۔ یہ ریگولیٹری پیش رفت کمپنی کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے، جس کا مرکزی دفتر ریاستہائے متحدہ میں واقع ہے [2]۔

مارکیٹ کے مشاہدین کا کہنا ہے کہ 2022 کی ابتدائی عوامی پیشکش کے بعد منافع کی عدم موجودگی کمپنی کے لیے نازک مقام پیدا کرتی ہے [2]۔ جبکہ کمپنی اپنی منظور شدہ ری ایکٹر ٹیکنالوجی کے نفاذ پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، موجودہ ایکویٹی مارکیٹ کے حالات ریگولیٹری کامیابی اور مالی استحکام کے درمیان خلاء کو واضح کرتے ہیں [1, 2]۔

حصص کی کمی کے وقت کے بارے میں رپورٹس میں تضادات پائے گئے ہیں، کچھ ذرائع 2026 کا حوالہ دیتے ہیں جبکہ دیگر 2024‑2025 کی مارکیٹ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہیں [1, 2]۔ تاہم، قیمت میں کمی کا رجحان اور خالص آمدنی کی عدم موجودگی سرمایہ کاروں کے خدشات کے بنیادی اسباب بنے ہوئے ہیں [1]۔

نیوسکیل پاور کے حصص نے سال کے آغاز سے اپنی قیمت کا تقریباً 30٪ نقصان اٹھایا ہے۔

نیوسکیل پاور کی صورتحال 'گرین ٹیک' توانائی کی تبدیلی کے اعلیٰ خطرے کو واضح کرتی ہے، جہاں ریگولیٹری منظوری فوری طور پر تجارتی استحکام میں تبدیل نہیں ہوتی۔ جبکہ امریکی نیوکلیئر ریگولیٹری کمیشن نے ٹیکنالوجی کی توثیق کی ہے، کمپنی کی فنڈنگ کے لیے ایکویٹی مارکیٹ پر انحصار اسے معاشی تبدیلیوں کے سامنے حساس بناتا ہے۔ اگر کمپنی ڈیزائن کی منظوری اور منافع کی تخلیق کے درمیان خلا کو پُر نہ کر سکے تو اسے اپنی تکنیکی کامیابیوں کے باوجود مائیدانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔