ایک ویڈیو جو آن لائن شیئر کی گئی اور دعویٰ کرتی ہے کہ یہ امریکی بحری پابندی برائے ایران دکھاتی ہے، درحقیقت مئی 2022 کی ہے، یعنی حالیہ امن مذاکرات سے قبل۔
یہ غلط پیشکش خلیجِ ہرمز کے اسٹریٹیجک طور پر اہم راستے میں کشیدگی کو بڑھاتی ہے اور امریکی‑ایرانی تعلقات کے بارے میں عوام کو گمراہ کرتی ہے۔
CBC News کے مطابق یہ کلپ پہلی بار مئی 2022 میں کسی سوشل پلیٹ فارم پر پوسٹ ہوا تھا، جس میں بحری جہازوں کو معمولی مشق کے دوران منور ہوتے دکھایا گیا ہے [1]۔
PBS NewsHour نے کہا کہ امریکی نے امن مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد ایرانی بندرگاہوں پر بحری پابندی شروع کر دی، اور اسی فوٹیج کو اس دعوے کی وضاحت کے لیے استعمال کیا [2]۔ حقائق کی جانچ کاروں نے دونوں رپورٹس کا موازنہ کیا اور پایا کہ فوٹیج مطلوبہ پابندی سے پہلے کی ہے، اس طرح PBS کے دعوے کی توثیق نہیں ہو سکی۔
Tribune Pakistan نے کہا کہ ویڈیو کے اصل سیاق و سباق کا تعین ممکن نہیں تھا، لیکن اس کی اپلوڈ تاریخ 2022 کی ہے، جو کسی بھی حالیہ امریکی آپریشن سے کافی پہلے ہے [3]۔ MSN کی فیک‑چیک نے اس نتیجے کو تسلیم کیا اور ویڈیو کو پرانا اور کسی بھی پابندی سے غیر متعلق قرار دیا [4]۔
سوشل میڈیا کے صارفین نے اس کلپ کو اس طرح کے کیپشن کے ساتھ گردش کیا کہ یہ امریکی ردعمل کی اچانک پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے خطے میں عوامی رائے مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
خلیجِ ہرمز، ایک اہم سمندری چوکی پوائنٹ، امریکی‑ایرانی مقابلے کا مسلسل مرکز رہتا ہے — ایک غلط تشریح شدہ ویڈیو سفارتی کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔
متعدد فیک‑چیک تنظیموں نے اپلوڈ ٹائم سٹیمپ، جہازوں کی شناخت اور اوپن‑سورس سیٹلائٹ تصاویر کا کراس‑ریفرنس کیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ ویڈیو میں کوئی بحری پابندی کی سرگرمی نہیں دکھائی گئی۔
“ویڈیو مئی 2022 کی ہے، جو کسی بھی حالیہ امریکی‑ایرانی مذاکرات سے پہلے کی ہے۔”
جب پرانی فوٹیج کو موجودہ فوجی کارروائی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو یہ عوامی فہم کو مسخ کرتا ہے اور جیوپولیٹیکل اضطراب کو بڑھا دیتا ہے۔ درست تصدیق جھوٹی کہانیوں کے پالیسی مباحثوں پر اثرانداز ہونے یا سفارتی کشیدگی کو بڑھانے سے روکنے میں مدد دیتی ہے، اس سے تیز رفتار تنازعے کے علاقوں میں سخت فیک‑چیکنگ کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔





