Pakistan کو امریکہ اور ایران کی جانب سے ہفتے کے آخر میں طے شدہ آئندہ ایٹمی امن مذاکرات میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی ہے۔ [1]
یہ دعوت اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ طویل المدتی امریکی‑ایرانی کشیدگی کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے اور ساتھ ہی خطے کی سلامتی کے امور میں پاکستان کو اعلیٰ سفارتی مقام فراہم کر سکتی ہے۔ [1] [3]
پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ وزارت کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شامل ہونے کی دعوت موصول ہوئی ہے۔ [1] ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کی شرکت وسیع تر تنازع کے خطرے کو کم کرنے اور اسلام آباد کے ایک تعمیری علاقائی کردار کے طور پر نمایاں ہونے کے لیے مقصود ہے۔ [3]
امریکی خصوصی Envoy سٹیو وٹینکوف نے کہا کہ 15 نکاتی امن منصوبہ پاکستان کی حکومت کے ذریعے ایران کو پہنچایا گیا ہے۔ [2] یہ منصوبہ، جو ایٹمی پابندی اور اعتماد سازی کے اقدامات کی وضاحت کرتا ہے، نئے فریم ورک کے لیے سفارتی کوشش کا مرکزی جزو ہے۔ [2]
DW Urdu کے مطابق پاکستانی وزارت خارجہ نے اس دعوت کی تصدیق کی ہے کہ اس کا مقصد خاص طور پر امریکی‑ایرانی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ [3] رپورٹ نے وزارت کے بیان کی تائید کی اور اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد کی شمولیت دونوں حریفوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔
ایک الگ SBS Urdu کے انٹرویو میں کہا گیا کہ پاکستان ضرورت پڑنے پر مذاکرات کی میزبانی کے لیے بھی تیار ہے۔ [4] جبکہ BBC نے اس کردار کو ثالث کے طور پر بیان کیا، SBS کے مضمون نے ممکنہ میزبانی کی فعالیت کو نمایاں کیا، جس سے اسلام آباد کی شمولیت کے لیے توقعات کی ایک وسیع رینج ظاہر ہوتی ہے۔ [1] [4]
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تاریخی تعلقات دونوں، تہران اور واشنگٹن کے ساتھ، اسے مکالمے کو آسان بنانے کے لیے ایک منفرد مقام پر رکھتے ہیں، تاہم اس کردار کی کامیابی بنیادی فریقین کی ثالث کو قبول کرنے کی رضامندی پر منحصر ہوگی۔ [3]
“پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسے ایٹمی مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔”
امریکہ اور ایران پاکستان کو ایک نادر صلح کی شاخ پیش کر رہے ہیں، اس کی مدد سے ایٹمی تنازعات اور وسیع جیوپولیٹیکل کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر پاکستان مؤثر طور پر مذاکرات کو ثالثی یا میزبانی کر سکے تو وہ جنوبی ایشیا میں ایک کلیدی سفارتی رابطے کے طور پر ابھر سکتا ہے، جس سے اس کی خارجہ پالیسی کے حساب کتاب میں تبدیلی آ سکتی ہے اور مستقبل کے علاقائی سلامتی کے انتظامات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔




