اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تصدیق کی کہ حکومت نے متحدہ عرب امارات کو $2 بلین [1] ادا کیا ہے۔

یہ ادائیگی پاکستان کے بیرونی قرض کے فرائض کے انتظام میں ایک نمایاں قدم کے طور پر سامنے آتی ہے۔ ان امانتوں کی ادائیگی بین الاقوامی کریڈٹ کی ساکھ برقرار رکھنے اور ملک کے زرِ بیرونی ذخائر کے انتظام کے لیے انتہائی اہم ہے۔

یہ فنڈز 2019 میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے فراہم کردہ قرض اور محفوظ امانت کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوئے [1]۔ یہ ابتدائی مالی معاونت پاکستان کے ادائیگیوں کے توازن کے استحکام کے لیے وسیع تر بیرونی حمایت کے اقدام کا حصہ تھی [1]۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، متحدہ عرب امارات نے $3.5 بلین [1] کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ حالیہ $2 بلین [1] کی ادائیگی اس مطالبے کے ایک حصے کو پورا کرتی ہے۔ یہ لین دین اسلام آباد کی حکومت اور کراچی کے مرکزی بینک کے درمیان ہم آہنگی کے ساتھ عمل میں لایا گیا۔

حکام کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان مالی تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ہے۔ ادائیگی کا عمل اس معاشی بے یقینی کے دور کے بعد آیا جب پاکستان نے ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے دوستانہ ممالک کی امانتوں پر شدید انحصار کیا۔

اگرچہ یہ ادائیگی متحدہ عرب امارات پر فوری قرض بوجھ کو کم کرتی ہے، حکومت نئی مالیاتی اختیارات کا جائزہ لینا جاری رکھتی ہے۔ یہ اختیارات طویل مدتی مالی بحالی کے منصوبے کے تحت قومی ذخائر کی معاونت کے لیے ہیں۔

حکومت نے متحدہ عرب امارات کو $2 بلین ادا کیے ہیں۔

2019 کی اس امانت کی ادائیگی پاکستان کی خلیجی حلیفوں کے ساتھ اعتماد برقرار رکھنے کی کوشش کی علامت ہے۔ طلب کردہ $3.5 بلین میں سے ایک حصہ واپس کر کے، حکومت مالی ذمہ داری اور قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے، جو مستقبل کے دو طرفہ قرضوں یا کریڈٹ لائنز کے حصول کے لیے ضروری ہے تاکہ ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے بچا جا سکے۔